مداحی اور مرثیہ سرائی اسلام کی اقدار کی تبیین اور جوانوں میں مقاومت کا جذبہ پیدا کرنے کا ذریعہ بنے، آیت اللہ محمد جواد فاضل لنکرانی

17 جون, 2026 18:19

شیعیت نیوز : جامعه مدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن اور مرکز فقہی ائمہ اطہار علیہم السلام کے سربراہ آیت اللہ محمد جواد فاضل لنکرانی نے کہا ہے کہ مداحی اور مرثیہ سرائی اسلام کی اقدار کی تبیین کا باعث ہونی چاہیے اور حقیقی عزاداری وہ ہے جو جوانوں میں مقاومت اور جان نثاری کا جذبہ پیدا کرے۔

انہوں نے کہا کہ رہبر شہید حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مداحی اور مرثیہ سرائی پر خاص توجہ تھی۔ انہوں نے ذاکرین اور مداحوں کو دیے گئے رہنما اصولوں کو جمع کرنے اور انہیں تمام عزاداری گروہوں تک پہنچانے کی تاکید کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : قرارگاہ خاتم الانبیاء کا صہیونی رجیم کو سخت انتباہ: جنگ بندی کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی

آیت اللہ فاضل لنکرانی نے امام رضا علیہ السلام کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "بے شک غمِ حسین سے ہماری آنکھیں اور دل ایسے زخمی ہیں جو کبھی تسکین نہیں پا سکتے”۔ انہوں نے روایات میں بیان کردہ اشک بر امام حسین علیہ السلام کے سات سے آٹھ اہم اثرات کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ عزاداری کی مجالس میں گریہ و عزا کو فروغ دیں اور جوانوں کو عادت ڈالیں کہ وہ تنہائی میں بھی امام حسین علیہ السلام کو یاد کریں اور اشک بہائیں۔

انہوں نے اس سال محرم میں رہبر شہید، فوجی کمانڈروں، عوام اور میناب کے 168 بچوں کی شہادت کا بھی غم بیان کیا، مگر کہا کہ عزاداری امام حسین علیہ السلام کی کوئی مثال نہیں۔

آیت اللہ فاضل لنکرانی نے لوگوں کو رہبر شہید اور اہل بیت علیہم السلام کے درمیان کسی قسم کا موازنہ کرنے سے سختی سے منع کیا اور کہا کہ یہ بڑا انحراف ہے۔ انہوں نے عزاداری کی حقیقت یہ بتائی کہ وہ عزاداروں میں مقاومت کا جذبہ پیدا کرے اور جوانوں کو دشمن کے مقابلے میں جانفشانی کے لیے تیار کرے۔

7:31 شام جون 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔