حزب اللہ نے خود کو جدید اور مہلک فورس میں تبدیل کر لیا، اسرائیلی ماہرین حیران
شیعیت نیوز : حزب اللہ نے اپنی عسکری حکمت عملی میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے خود کو ایک زیادہ مہلک اور جدید فورس میں ڈھال لیا ہے، جس نے اسرائیلی دفاعی ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ اسرائیل اور مغربی میڈیا کی جانب سے حزب اللہ کی تباہی کے دعوؤں کے برعکس، یہ تنظیم خاموشی سے خود کو ایک انتہائی ذہین اور مہلک قوت کے طور پر دوبارہ منظم کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حزب اللہ نے اسرائیلی فوجی اڈے کو ڈرون حملوں سے آگ لگا دی، متعدد صہیونی فوجی زخمی
حالیہ جنگی تجربات کی روشنی میں حزب اللہ نے اپنی روایتی بڑی یونٹس کو ختم کر کے چھوٹے اور آزادانہ طور پر کام کرنے والے گھوسٹ یونٹس تشکیل دیئے ہیں۔ یہ خصوصی ٹیمیں ڈرون حملوں، گھات لگا کر حملے کرنے اور تیز رفتار چھاپہ مار کارروائیوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں، جنہیں اسرائیلی جدید ترین نگرانی کے نظام کے ذریعے پکڑنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ حزب اللہ نے اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو بھی مکمل طور پر غیر مرکزی بنا دیا ہے تاکہ قیادت کو نشانہ بنانے کی صورت میں تنظیم کا کام متاثر نہ ہو۔
اب فیصلے کرنے کا اختیار جونیئر کمانڈرز کو دے دیا گیا ہے، جو مجموعی حکمت عملی کے تحت آزادانہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حزب اللہ اب ہزاروں راکٹ فائر کرنے کے بجائے ہدف پر مبنی درست کارروائیوں کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ دشمن کی سپلائی لائن اور کمانڈ چین کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ تنظیم نے دفاعی حکمت عملی بھی بدل لی ہے اور وہ اب زمین بچانے کے بجائے اسرائیل کو طویل جنگ میں الجھا کر جانی و مالی نقصان پہنچانے پر توجہ دے رہی ہے۔
حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد سامنے آنے والی نئی قیادت جدید جنگی نظریات سے لیس ہے، جو اسرائیل کے لیے ایک مستقل دردِ سر بن چکی ہے۔







