الجولانی: لبنان میں فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں، اسرائیل سے تصادم سے گریز

26 جولائی, 2026 20:31

شیعیت نیوز : شام پر حاکم تکفیری جماعت تحریر الشام کے سربراہ الجولانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کا لبنان میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں، جبکہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست تصادم سے بھی گریز کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں احمد الشرع نے کہا کہ شام، لبنان کی حکومت کے ساتھ ایسے حل پر کام کر رہا ہے جو لبنان کو بحران سے نکال کر استحکام کی جانب لے جائے۔ لبنان کا مسئلہ صرف سکیورٹی کا نہیں بلکہ اس کے لیے جامع سیاسی حل درکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان میں کسی بھی قسم کا انتشار براہ راست شام کو متاثر کرے گا، اسی لیے دمشق اس بات کی حمایت کرتا ہے کہ اسلحہ اور جنگ و امن کا فیصلہ صرف لبنانی ریاست کے اختیار میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے خطے میں جنگ کے دائرہ کار کے پھیلنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

اسرائیل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے احمد الشرع نے کہا کہ شام اسرائیل کے ساتھ کسی بھی تصادم سے گریز کرنا چاہتا ہے کیونکہ موجودہ حالات میں یہی اس کے مفاد میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے حملوں سے امریکی فوج کو بھاری نقصان، 8 سے 22 جولائی تک کی تفصیلی فہرست

انہوں نے مزید بتایا کہ چند دیگر ممالک کی شراکت سے اسرائیل کے ساتھ ایک سکیورٹی معاہدے پر کام جاری ہے۔ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو گیا تو شام کے مقبوضہ جولان پر اپنے حق سے دستبردار ہوئے بغیر ایک جامع امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف اقتصادی پابندیوں کے خاتمے سے فائدہ نہیں ہوگا، جب تک شام کا نام دہشت گردی کے حامی ممالک کی فہرست سے خارج نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے کردوں کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کی رفتار کو سست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود حکومت اس عمل کی کامیابی کے لیے پرامید ہے۔ لاپتا افراد کے معاملے کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اور تجربہ کار ممالک کے تعاون سے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

احمد الشرع نے عراق کے ساتھ تعلقات میں مسلسل بہتری کا بھی ذکر کیا، جبکہ روس کے ساتھ شام میں اس کی فوجی اڈوں کے مستقبل پر مذاکرات ابھی جاری ہونے کی تصدیق کی۔

9:37 شام جولائی 26, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔