ٹرمپ کو فرعون کا لہجہ چھوڑنا ہوگا
شیعیت نیوز : دنیا کی سیاست میں طاقت کا اظہار کوئی نئی بات نہیں، مگر جب یہ طاقت تکبر اور غرور میں بدل جائے تو وہ فرعونیت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ آج کے عالمی منظرنامے میں بعض رہنماؤں کا طرزِ گفتگو اور پالیسی اسی فرعونی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے، جہاں مکالمے کی جگہ دھمکی، اور انصاف کی جگہ غرور اور تکبر کا احساس لے لیتا ہے۔ ایسے میں امن کی بات کرنا خود ایک مزاحمت اور وقت کی ضرورت بن جاتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا اندازِ سیاست اور بیان بازی کئی بار اسی غرور کی مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ ان کے بیانات میں طاقت کا زعم، مخالفین کے لیے سخت لہجہ، اور عالمی معاملات کو یک طرفہ انداز میں دیکھنے کی روش نمایاں رہی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف سفارتی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ دنیا میں کشیدگی کو بڑھانے کا سبب بھی بنتا ہے۔ آج ایک غرور و تکبر میں ڈوبے شخص کے اسی رویے نے امریکہ کو وہاں لا کھڑا کیا ہے کہ اب دوست بھی اس کا ساتھ دینے سے گھبراہٹ کا شکار ہیں۔ دنیا کو ایسے لیڈرز کی ضرورت ہے جو پل بنائیں اور انسانیت کو یک جا کریں، نہ کہ دیواریں بنا کر انسان کو انسان کا دشمن بنا دیں۔
یہاں اگر ہم اسلامی تاریخ کی طرف نظر ڈالیں تو ہمیں ایک عظیم مثال امام حسین علیہ السلام کی صورت میں ملتی ہے، جنہوں نے ظلم، جبر اور باطل کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا۔ کربلا کا واقعہ صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے کہ حق کے لیے کھڑا ہونا ہی اصل کامیابی ہے، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔ بالکل ایسے ہی امام حسینؑ کے فرزندِ فکری امام خامنہ ای نے اپنے جد کے راستے پر چلتے ہوئے وہی جرأت اور استقامت دکھائی جو ہم آج تک سنتے آ رہے تھے — وہی صبر، شجاعت اور استقامت جس نے ہمیں سکھایا کہ طاقت کا اصل معیار تعداد یا ہتھیار نہیں بلکہ حق پر قائم رہنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایم ڈبلیو ایم وفد کی ایران سفارتخانے میں سفیر رضا امیری مقدم سے اہم ملاقات
امام عالی مقامؑ کا یہ پیغام آج بھی زندہ ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا دراصل ظلم کا ساتھ دینا ہے۔ یہی وہ فکر ہے جو ہر دور میں مظلوم اقوام کو حوصلہ دیتی ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے ڈٹ جائیں۔
ایرانی قوم کی موجودہ صورتِ حال کو اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایک واضح مماثلت نظر آتی ہے۔ ایران ایک عرصے سے عالمی دباؤ، پابندیوں اور سیاسی تناؤ کا سامنا کر رہا ہے، مگر اس کے باوجود اس نے اپنی خودمختاری اور نظریاتی موقف پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ایرانی عوام میں مزاحمت کی جو روح نظر آتی ہے وہ اسی حسینی فکر سے جڑی ہوئی ہے، جہاں عزت کو زندگی پر ترجیح دی جاتی ہے اور اس راستے میں آنے والی موت کو شہد سے زیادہ شیریں خیال کیا جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایرانی قوم علامہ اقبال کے فلسفے سے بھی گہرا اثر رکھتی ہے۔ فکرِ اقبال دراصل خودی، آزادی اور ظلم کے خلاف بغاوت کا پیغام ہے۔ اقبال کے نزدیک فرعونیت ہر اس سوچ کا نام ہے جو طاقت کے نشے میں دوسروں کو دبانے کی کوشش کرے، جبکہ حسینی فکر اس فرعونیت کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یوں اقبال اور کربلا کا پیغام ایک دوسرے سے جڑ کر ایک مکمل نظریہ تشکیل دیتا ہے۔
آج ایران جس طرح عالمی دباؤ کے باوجود اپنے موقف پر قائم ہے، وہ اسی نظریاتی بنیاد کا نتیجہ ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عزت اور خودمختاری کسی بھی قیمت پر قربان نہیں کی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی بڑی طاقت کے سامنے جھکنے کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دیتے ہیں۔
ٹرمپ جیسے رہنماؤں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا اب بدل چکی ہے۔ طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرنے کا دور ختم ہو رہا ہے، جیسا کہ رہبرِ انقلاب سید علی حسینی خامنہ ای (رح) نے فرمایا تھا کہ اب مار کر بھاگ جانے کا دور ختم ہوگیا، اب مارو گے تو دگنا کھاؤ گے۔ اگر انسانیت کے اس دشمن صدر ٹرمپ کی دوغلی پالیسیوں اور فرعونی سازشوں سے دنیا کو نجات دلانی ہے تو دنیا کے انصاف پسند اور انسانیت دوست حکمرانوں کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا تاکہ جلد ہی دنیا کو امن نصیب ہو۔ بہت جلد دنیا یہ جان لے گی کہ فرعونیت کا انجام ہمیشہ تباہی پر ختم ہوتا ہے، جبکہ حسینی فکر ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کو آج فرعونی لہجوں کی نہیں بلکہ حسینی کردار کی ضرورت ہے۔ اگر عالمی رہنما امام حسینؑ کی استقامت، صبر اور اصول پسندی سے سبق حاصل کریں تو شاید دنیا میں امن اور انصاف کی ایک نئی راہ کھل سکے، اور ٹرمپ جیسے حکمرانوں کو ان کے جنگی جرائم اور انسانیت سوز مظالم کی بنا پر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے تاکہ دنیا میں امن و امان اور انصاف کی بنیاد رکھی جا سکے۔







