منبر پر خاموشی: عزاداری یا مفاد پرستی؟
شیعیت نیوز :
منبر پر خاموشی — عزاداری یا مفاد پرستی؟ کربلا کا پیغام تاریخ تک محدود یا آج کے ظلم کے خلاف آواز بھی؟
مقبوضہ فلسطین یا دنیا بھر کے حالات میں حق کو ایک بار پھر تنہا اور مظلوم بنا دیا گیا ہے۔ واقعہ کربلا کا نام تو سب کی زبان پر ہے مگر اس کا اصل پیغام ہمارے کردار سے غائب ہو چکا ہے۔ ہم امام حسین علیہ السلام کے غم میں آنسو بہاتے ہیں، سینہ کوبی کرتے ہیں اور مجالس سجاتے ہیں، مگر جب ان کے راستے پر چلنے کا وقت آتا ہے تو ہم خاموش ہو جاتے ہیں۔
آج کے دور میں ایک عجیب منظر سامنے آیا ہے۔ وہ بااثر افراد جو کربلا کے مظلوموں کے دکھ بیان کرتے اور 1400 سال پرانے مظالم کے خلاف احتجاج کرتے نظر آتے ہیں، آج کی کربلا کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔ دن کی روشنی میں شیطان کے پیروکار ایران میں 168 معصوم بچیوں کو قتل کر دیتے ہیں، مگر وہ لوگ جو بی بی سکینہ سلام علیہا کے مصائب سناتے اور لوگوں کو رلاتے ہیں، ایک بار پھر سکوت اختیار کر لیتے ہیں۔ ایک ایسا تاریک سکوت ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ انہیں آج کے مظلوموں کی بکھری لاشوں کے درمیان بیٹھی ماؤں کا منظر نظر نہیں آتا۔
یہ بھی پڑھیں : صمود کاروانوں پر صہیونی حملہ بین الاقوامی دہشت گردی کی علامت ہے، سردار جنرل قاآنی
کیا یہ وہی لوگ نہیں جو کربلا کے ہر منظر کو اتنی شدت سے بیان کرتے ہیں کہ مجمع سسک اٹھتا ہے؟ پھر آج کے مظلوم پر ان کی زبان کیوں بند ہو جاتی ہے؟ کیا کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ ہے یا اس کا آج سے گہرا تعلق ہے؟ یا ہم نے اسے صرف ایک رسم بنا دیا ہے—جس میں آنسو تو ہیں مگر عمل نہیں، جذبات تو ہیں مگر جرات نہیں؟
آج کے دور میں کچھ نوحہ خواں اور ذاکرین طاقت بن چکے ہیں۔ ان کی آوازیں لاکھوں تک پہنچتی ہیں، ان کے الفاظ دلوں کو ہلا دیتے ہیں مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بیداری محفل تک ہی محدود رہتی ہے؟ مجالس میں سب کچھ مکمل لگتا ہے—جذبات، عقیدت اور آنسو—مگر محفل ختم ہوتے ہی حقیقی مسائل پر وہی آوازیں غائب ہو جاتی ہیں۔
یہ خاموشی کیوں؟ کیا حق واضح نہیں یا مفاد زیادہ اہم ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ خاموشی اکثر حساب کتاب کا نتیجہ ہوتی ہے—کہ کہاں بولنا ہے اور کہاں نہیں، کس سے شہرت ملے گی اور کس سے نقصان۔ یہ مقدس آوازیں لاکھوں سننے والوں تک پہنچتی ہیں مگر کیا ان کی ذمہ داری صرف رلانا ہے یا حق کا پرچار بھی؟ جب ظلم ہو رہا ہو، اہل حق پر دباؤ ہو، ایران اور امریکہ کی کشیدگی خطے کو خوف میں رکھے تو وہ آوازیں کہاں چلی جاتی ہیں جو محرم میں آسمان چیر دیتی ہیں؟
یہ اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا رویہ یا مفاد پرستی ہے۔ کیا یہ منبر ہیں یا محفوظ کاروبار؟ کیا یہ نوحے ہیں یا ترتیب دی گئی پرفارمنس؟ ہم بار بار امام حسین کا نام لیتے ہیں مگر کیا ہم نے کبھی خود سے پوچھا کہ حسین علیہ السلام نے ہمیں کیا سکھایا تھا—صرف رونے کے لیے یا ظلم کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے؟
رہبر شہید سید علی خامنہ ای کے خلاف حملوں یا شہادت کی خبروں پر تو دنیا بھر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ جاتی ہے مگر انہی لمحات میں کچھ خود کو اہل بیت کا نمائندہ کہنے والے مکمل خاموش رہ جاتے ہیں۔ یہ خاموشی صرف ایک جملے کی کمی نہیں بلکہ موقف کی عدم موجودگی ہے۔
خاموشی غیر جانبداری نہیں—ظلم واضح ہونے پر یہ ایک طرف کا انتخاب بن جاتی ہے۔ یہ تحریر ایک للکار ہے ہر اس شخص کے لیے جو خود کو اہل بیت کا خادم کہتا ہے، منبر پر بیٹھتا ہے اور ہزاروں تک پہنچتا ہے: اگر آپ کی آواز صرف محفوظ موضوعات تک محدود ہے، جرات صرف تاریخ تک ہے اور غیرت صرف اشعار میں ہے تو رک کر سوچیں۔
معاشرہ بھی ذمہ دار ہے—ہم کن لوگوں کو آگے لاتے ہیں؟ وہ جو صرف رلاتے ہیں یا وہ جو جگاتے بھی ہیں؟ جب تک ہم معیار نہیں بدلیں گے، یہ رویہ جاری رہے گا۔
آخری پیغام: یہ وقت واضح فیصلے کا ہے—یا تو حق کے ساتھ کھڑے ہوں یا خاموشی کے ساتھ۔ کربلا ایک قصہ نہیں بلکہ معیار ہے۔ اس معیار پر ہر آواز، آنسو اور خاموشی کو پرکھا جائے گا۔ یہ سکھاتی ہے کہ حق کے لیے کھڑے ہو جاؤ، چاہے قیمت کچھ بھی ہو۔







