قم کے طلبہ و علماء کو ریمدان بارڈر پر شدید مشکلات، گرمی میں طویل انتظار ناقابل برداشت
شیعیت نیوز : قم/ریمدان/تفتان: ایران کے حوزات علمیہ میں زیر تعلیم پاکستان سے تعلق رکھنے والے طلاب علوم دینیہ گرمیوں کی تعطیلات اور ماہ عزاء کی تبلیغ کے لیے وطن واپسی کے دوران شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ریمدان اور تفتان بارڈر پر سیکیورٹی کانوائے کے نام پر طلبہ اور علماء کرام کو کئی کئی دن تک روکے رکھا جا رہا ہے جبکہ شدید گرمی اور نامساعد حالات نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
متاثرہ طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ قانونی تقاضوں کا مکمل احترام کرتے ہیں، مگر غیر ضروری تاخیر، ناقص انتظامات اور طویل انتظار ان کے لیے ذہنی و جسمانی اذیت کا باعث بن رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : علامہ محمد جمعہ اسدی کی رحلت، دینی تعلیم و عوامی خدمت کا ایک عظیم ستارہ ڈوب گیا
قم المقدسہ میں زیر تعلیم عارف حسین نے کہا کہ "اپنے ہی ملک میں علماء کرام اور طلبہ کی تذلیل کب تک؟” جبکہ مولانا حیدر علی ڈومکی نے بلوچستان حکومت کی پالیسیوں کی تنقید کرتے ہوئے اسے قابل مذمت قرار دیا۔
طلبہ، علماء اور سماجی حلقوں نے حکومت پاکستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحدی گزرگاہوں پر رکاوٹیں فوری دور کی جائیں، کانوائے کے نظام پر نظر ثانی کی جائے اور وطن واپس آنے والے طلاب علوم دینیہ کو شدید گرمی میں غیر ضروری مشکلات سے نجات دلائی جائے۔







