آبنائے ہرمز میں امریکہ کی فوجی شکست، ایران سمندری جنگ میں بھی فاتح

07 مئی, 2026 19:35

شیعیت نیوز : سیاسی امور کے تجزیہ کار مہدی محمدی نے 6 مئی کی نصف شب سپاہ اور فوج کے مشترکہ آپریشن کا حقیقت حال بیان کرتے ہوئے کہا: سپاہ کی بحریہ اور فوج کی بحریہ نے شانہ بشانہ صبح تک آبنائے ہرمز میں جنگ کی۔ اس کے باوجود کہ امریکیوں نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک وسیع فضائی چھتری قائم کر رکھی تھی اور وہ کوشش کر رہے تھے کہ بڑی تعداد میں جنگی بحری جہازوں کو بحیرہ عمان سے آبنائے ہرمز میں داخل کریں اور پھر خلیج فارس میں لے جائیں، مگر یہ کارروائی ناکام رہی۔

یہ بھی پڑھیں : ایران نے نام نہاد سپر پاور کو صرف 40 روز میں ننگا کر دیا!

فارس نیوز کے سیاسی نامہ نگار کے مطابق، مہدی محمدی نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر شائع کی گئی ایک صوتی گفتگو میں خلیج فارس میں امریکہ کی فوجی شکست کی روایت بیان کرتے ہوئے کہا: گزشتہ تین دنوں میں جو سب سے اہم واقعہ پیش آیا، وہ ایک کارروائی تھی جسے ’’پروجیکٹ آزادی‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے اس کے ذریعے کوشش کی کہ آبنائے ہرمز کو فوجی طریقے سے کھول دے، لیکن آخر کار امریکہ کو شکست ہوئی۔

مجلس کے اسپیکر کے مشیر کی جانب سے پیش کی گئی وضاحت کے مطابق، جو جھڑپ ہوئی وہ امریکہ کے لیے ایک بڑی فوجی تباہی میں تبدیل ہو گئی، اور امریکیوں کو سپاہ کی بحریہ کے ہاتھوں بھاری فوجی شکست اٹھانی پڑی۔ مجلس کے اسپیکر کے مشیر نے کہا: اُن کے چار بحری جہاز تقریباً ناکارہ ہو گئے۔ ان کے دو جہازوں نے ابوموسی جزیرے کے عقب میں ساحلی چٹانوں میں پناہ لینے کی کوشش کی۔ امریکہ اسی مقصد کے ساتھ آیا تھا جس کا میں نے ذکر کیا، یعنی ایک فتح تخلیق کرنے کے مقصد سے، تاکہ آبنائے ہرمز کو کھول دے، لیکن فوجی لحاظ سے اسے نہایت تباہ کن شکست ہوئی۔

جو واقعہ پیش آیا وہ یہ تھا کہ صبح 5 بجے ٹرمپ مجبور ہوا کہ ٹویٹ کرے اور کہے کہ ’’پروجیکٹ آزادی‘‘ کو روک دیا جائے۔ مہدی محمدی کے بقول، ہر عاقل انسان سمجھتا ہے کہ صبح 5 بجے اور نصف شب کے وقت اسلام آباد میں کوئی سفارتی واقعہ پیش نہیں آیا تھا، اور یہ جھوٹ تھا جو ٹرمپ نے کہا۔ یہ اس بات کا نتیجہ تھا کہ یہ لوگ آبنائے ہرمز کو فوجی طریقے سے کھولنا چاہتے تھے، مگر شکست کھا گئے۔

8:29 شام مئی 12, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔