ایران فاتح ہے، مگر کیسے؟
شیعیت نیوز :
ترتیب و تنظیم: ایل اے انجم
نیٹو کے سابق کمانڈر جنرل وسلے کلارک نے سی این این کو انٹرویو میں بتایا کہ امریکہ کے پاس ٹوماہاک میزائلوں کا 50 فیصد سے بھی کم ذخیرہ رہ گیا ہے۔ ایرانی حملوں میں ایسے ریڈار کھو دیے گئے جن کی جگہ لینا مشکل ہے۔ تھاڈ انٹرسپٹرز کا نصف ذخیرہ بھی استعمال ہو چکا ہے جنہیں پورا کرنے میں کئی سال لگیں گے۔
پینٹاگون حکام نے کانگریس کو بریفنگ میں بتایا کہ ایران جنگ پر اب تک 25 ارب ڈالر خرچ ہوئے، جبکہ سی این این کی رپورٹ کے مطابق جنگ کی حقیقی لاگت 40 سے 50 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ یہ تخمینہ کم تر ہے کیونکہ امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے وسیع نقصان کی مرمت کی لاگت شامل نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ کے سامنے ایران کی شاندار فوجی حکمت عملی، میزائل پروگرام بن گیا گیم چینجر، تجزیہ کار حیران
این بی سی نیوز نے رپورٹ کیا کہ ایران کو معاہدے کی کوئی جلدی نہیں، وہ غیر متوقع طور پر پہلے سے زیادہ مستحکم ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے فضائی حملوں میں شدت لائی، ڈھانچے تباہ کرنے کی دھمکیاں دیں، سفارت کاری اور بحری ناکہ بندی کا راستہ اپنایا مگر تہران کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں۔ مغربی حکام کے مطابق ایرانی حکومت حملوں سے سیاسی فائدہ اٹھا کر زیادہ سخت اور جارحانہ موقف اختیار کر چکی ہے۔ اصلاح پسند دھڑا پس منظر میں چلا گیا ہے۔
امریکہ میں جنگ کے طویل ہونے سے عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ این بی سی نیوز کے سروے کے مطابق دو تہائی امریکی ٹرمپ کے جنگی انتظام سے متفق نہیں۔ فوکس نیوز سروے میں مہنگائی اور معیشت پر ڈیموکریٹس کو برتری مل گئی ہے۔
Center for Strategic and International Studies (CSIS) کی ڈائریکٹر مونا یاکوبیان نے "Mowing the Grass” حکمت عملی کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران حماس نہیں ہے۔ یہ 9 کروڑ آبادی والا ملک ہے جس کے پاس 400 کلوگرام افزودہ یورینیم ہے اور آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ یہ حکمت عملی لامتناہی اور تھکا دینے والی ثابت ہوگی۔
CSIS رپورٹ کے مطابق شدید جنگ نے امریکہ کے Precision Strike Missiles کا 45 فیصد، پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کا 50 فیصد، تھاڈ میزائلوں کا آدھا سے زیادہ، ٹوماہاک کا 30 فیصد اور دیگر اہم ہتھیاروں کا بڑا حصہ ختم کر دیا ہے۔ ان ذخائروں کو بحال کرنے میں ایک سے چار سال لگیں گے۔
ٹرمپ کے ایک کے بعد ایک غلط دعوؤں کی سی این این نے ٹائم لائن کے ساتھ قلعی کھول دی۔ انہوں نے پوپ، خلیجی ممالک، ایرانی فوج ختم ہونے، فرینڈلی فائر اور یورینیم افزودگی سمیت متعدد جھوٹے دعوے کیے جو بعد میں مسترد ہوئے۔
یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز کی سینئر فیلو ایلی گیرانمائی نے کہا کہ "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی 40 سال پرانی امریکی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔
فارن افیئرز میگزین کے تجزیے کے مطابق امریکہ فتح کا اعلان کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے جبکہ ایران بقا کو ہی فتح قرار دے سکتا ہے۔ ایرانی حکومت مضبوط ہے، پاسداران کا کنٹرول بڑھ گیا ہے اور آبنائے ہرمز میں خلل ڈالنے کی صلاحیت برقرار ہے۔







