امریکہ کے سامنے ایران کی شاندار فوجی حکمت عملی، میزائل پروگرام بن گیا گیم چینجر، تجزیہ کار حیران

01 مئی, 2026 12:24

شیعیت نیوز :

رپورٹ: سید عدیل عباس

کہاں امریکہ جیسی بڑی فوجی طاقت اور کہاں اس کی پابندیوں کا شکار ملک ایران۔ دونوں کا جنگی اعتبار سے موازنہ بنتا ہی نہیں تھا، مگر امریکہ سے حالیہ جنگ میں ایران کی جنگی صلاحیت دیکھ کر عالمی ماہرین حیران ہیں۔ ایران نے دشمن کے جانی نقصان سے زیادہ اس کی دفاعی تنصیبات کو تباہ کرنے کی حکمت عملی اپنائی جس نے دشمن کو دن میں تارے دکھا دیے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جنگی توازن کے حوالے سے فوجی برتری حاصل ہونے کے باوجود امریکہ نے بھاری ہتھیار استعمال کر کے عام تباہی پھیلائی جبکہ ایران کی جوابی حکمت عملی انتہائی منظم اور اہداف پر مبنی تھی۔ عالمی ماہرین حیرت زدہ ہیں کہ ایران نے کس طرح جدید سیٹلائٹ کے ذریعے اہداف کی نشاندہی کی اور پھر انہیں انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے حملوں کا بنیادی مقصد جانی نقصان کی بجائے امریکہ کی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی فوج کو ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی ایمیزون کس حال میں ہے؟ شدید کراہنے کی آوازیں!

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے ایک منظم حکمت عملی کے تحت خلیج میں موجود اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈ کوارٹر پر سیٹلائٹ کمیونیکیشن نظام، کویت کے ریڈار سسٹم، متحدہ عرب امارات کے ایئر بیس میں فیول سٹوریج اور بیرکس جبکہ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس میں ریو فیلنگ ٹینکرز کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس مہنگے امریکی دفاعی نظام کے مقابلے میں کم لاگت والے ایرانی ڈرونز اور میزائلز کے استعمال نے اس جنگی حکمت عملی میں ایک نئی جہت اجاگر کی ہے۔

اس وقت مذاکرات کے دوران امریکہ کا سب سے بڑا مطالبہ ایران کا میزائل پروگرام کا خاتمہ ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ تہران کا یہ میزائل پروگرام امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک ڈراونا خواب اور اس جنگ کا گیم چینجر تھا تو غلط نہ ہوگا۔

معروف تجزیہ نگار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ ایران نے کئی میزائل استعمال کیے، مگر اسرائیل تک پہنچنے کے لیے تین ملک کے اوپر سے جانا پڑا جہاں امریکی اینٹی میزائل سسٹم موجود ہیں۔ ایران نے پوری کوشش کی اور اس کے باوجود اس کے میزائل ہدف تک پہنچ جاتے ہیں اور بہت نقصان ہوا ہے۔ اسرائیل کے 70 سے 80 فیصد ڈیفنس اور اینٹی میزائل سسٹم ختم ہو گئے ہیں۔ اسرائیل اب اس بات سے پریشان ہے کہ اگر جنگ دوبارہ چھڑ گئی تو وہ کیسے دفاع کرے گا۔ اسی لیے ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان اور جنوبی کوریا سے بڑا میزائل ذخیرہ اسرائیل منتقل کیا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے پاس موجود میزائل اب ڈرونز اور میزائلوں پر بھی ضائع ہو رہے ہیں اور اسٹاک ختم ہونے والا ہے۔ امریکہ کے پاس بھی 50 فیصد میزائل ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔ دوسری طرف ایران کا دفاعی نظام مضبوط ہے اور وہ جنگ مزید جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران میں اتنی تباہی نہیں ہوئی جتنا امریکہ اور اسرائیل دعویٰ کر رہے ہیں۔

1:37 شام مئی 1, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔