ایران پر امریکی واسرائیلی حملوں کیخلاف ملتان میں اجتماعی نماز جمعہ ، ہزاروں افرادکی شرکت
شیعیت نیوز: ایران پر حالیہ امریکہ و اسرائیلی جارحیت اور اس کے نتیجے میں شہید ہونے والے ایرانی سپریم لیڈرآیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے خلاف ملک بھر کی طرح ملتان میں بھی ملت جعفریہ کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے، اس حوالے سے ملتان کے سیداں والا بائی پاس پر اجتماعی نماز جمعہ ادا کیا گیا جس کے بعد احتجاج کیا گیا، اجتماعی نماز جمعہ اور احتجاج میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے، پولیس کی بھاری نفری موجود تھی، چوک کو چاروں اطراف سے قناتیں لگا کر بند کیا گیا تھا۔ شرکاء نے ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ کی تصاویر اُٹھا رکھی تھیں۔ نماز جمعہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ سید اقتدار حسین نقوی کی اقتداء میں ادا کی گئی۔ احتجاج سے علامہ تصور مہدی، علامہ قاضی نادر حسین علوی، سید امین شیرازی، سلیم عباس صدیقی، سید فضل عباس نقوی، یافث نوید ہاشمی، حسنین انصاری سمیت دیگر نے خطاب کیا۔
رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی اس کی نابودی کا باعث بنے گا، پاکستان میں موجود امریکی سفارت خانے بند کیے جائیں، حکومت کو غزہ بورڈ آف پیس فوری نکل جانا چاہیے، پاکستانی حکومت کھل کر ایران کی حمایت اور امریکہ و اسرائیل کی مذمت کرے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد، گلگت بلتستان میں مظاہرین پر سیدھے فائر کرنے والے قاتلوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں، مظاہرین پر بنائے گئے بے بنیاد مقدمات فوری ختم کیے جائیں، اگر حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے تو پورا ملک اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں : امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کی سربراہ ایم ڈبلیوایم سینیٹرعلامہ راجہ ناصرعباس سے ملاقات، رہبر معظم کی شہادت پر تعزیت
رہنمائوں نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم بغیر کسی تفریق کے ایرانی قوم کے ساتھ کھڑی ہے، امت مسلمہ کو آج بیدار ہونے کی ضرورت ہے، ایران کا ساتھ دیں اور باطل کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں۔ اس موقع پر علامہ سید حسن شیرازی، علامہ سید حسین شیرازی، مولانا غلام مصطفی خان، مولانا غلام جعفر انصاری، مولانا غدیر شیرازی، مولانا علی رضا حسینی، مولانا علی حسنین نقوی، مولانا اعجاز حسین بہشتی، مولانا ہادی حسین قمی، اراکین امن کمیٹی خاور حسنین بھٹہ، انجینئر سخاوت علی سیال، مہر شاہد عباس چاون، سید عارف اختر کاظمی، مصدق علی، عون رضا انجم ایڈووکیٹ، عاطف حسن سہرانی، وسیم عباس زیدی، منیر الحسینی اور دیگر موجود تھے۔







