علامہ سید ساجد علی نقوی کا مہاجرین کے عالمی ایام پر پیغام: سرکشی اور نظام کی خرابی نے انسانیت کو دربدر کیا
شیعیت نیوز : علامہ سید ساجد علی نقوی نے یکے بعد دیگرے مہاجرین اور ہجرت کے عالمی ایام پر جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انسان نے سرکشی اور طغیانی میں انسانیت کو رسوا کیا اور دربدر کیا۔ اگرچہ نبوت و رسالت نے انسانیت کی فلاح، ہدایت، اچھی زندگی اور بہترین معاشرت کے لیے بھرپور کردار ادا کیا، اس کے باوجود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمیت انبیاء، اوصیا اور بندگانِ خدا نے بھی ہجرت اور مصائب کا سامنا کیا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل کے اعداد و شمار کے مطابق 12 کروڑ سے زائد افراد جنگوں، تنازعات، ظلم و جبر اور موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب ہجرت پر مجبور ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں : رہبر معظم کی طرف سے ایرانی فضائیہ اور ائیر ڈیفنس کے نئے کمانڈر مقرر
علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ آج مہاجرین کے روپ میں انسان دربدر، مہاجر کیمپوں میں یا بے یار و مددگار ہے، یہ سب انسان کی سرکشی اور شیطانیت کا نتیجہ ہے۔ غزہ، شام، لبنان، روہنگیا سمیت کئی ممالک اس کی بدترین مثالیں ہیں۔
انہوں نے ہجرت نبویؐ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپؐ نے انسانیت کی فلاح کے لیے وہ رہنما اصول چھوڑے کہ اگر انسانیت ان پر عمل کرتی تو دنیا واقعی مہذب ہو چکی ہوتی، مگر افسوس کہ موجودہ نظام کی خرابی نے انسانیت کو شرمندہ و دربدر کر رکھا ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ انسانی حرمت کے لیے جدید دنیا نے بہت سے اصول اور بین الاقوامی ادارے قائم کیے، مگر سرکشی کا توڑ نہ کر سکی، جو اس نظام کی ناکامی کی بنیادی وجہ ہے۔ اسی نظام کی خرابی سے انسانی ضروریات اور وسائل مسلسل کم ہو رہے ہیں اور آزادی پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف ظلم و ستم کی وجہ سے لوگ اپنے آبائی علاقوں میں مہاجرین بن جاتے ہیں، دوسری طرف ناانصافی اور بے روزگاری کے سبب غیر قانونی ہجرت پر مجبور ہوتے ہیں۔ پاکستان سمیت کئی ممالک کے افراد یونان کے پانیوں میں ڈوب جاتے ہیں یا سمگلرز کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ لہٰذا سسٹم کی خرابیوں کو دور کرنے سے ہی ان مسائل کا حل نکالنا ضروری ہے۔







