ہمیں ایران اور سعودیہ سے تعلق مضبوط بنانے چاہیئے، علامہ محمد حسین اکبر
شیعیت نیوز : بانی سرپرستِ اعلیٰ ادارہ منہاج الحسینؑ لاہور اور سربراہ تحریک حسینیہ پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد حسین اکبر نے کہا ہے کہ قرآنِ کریم نے ہمیں بنیان مرصوص بننے کا درس دیا اور معرکۂ حق میں اسی اتحاد اور یکجہتی نے کامیابی کی بنیاد رکھی۔ اس تاریخی معرکے میں قوم، ریاستی ادارے اور قیادت ایک صف میں کھڑے ہوئے اور باطل قوتوں کو شکست دی۔ یہی نظم و ضبط، مشترکہ عزم اور قومی یکجہتی فتح کا سبب بنے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اپنے بندوں کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے میرے بندو، جب کبھی جہاں کہیں بھی حق و باطل کے معرکے کا میدان سجے تو اپنی صفوں میں اتحاد و وحدت اور یکجہتی کو قائم رکھتے ہوئے دشمن کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر جہاد کرو۔ ایسے مشکل ترین حالات میں جو قوم اسلام کی بالادستی اور وطنِ عزیز کی عزت و ناموس کی حفاظت و سلامتی کے لیے قومی ریاستی اداروں اور دفاعِ اسلام و دفاعِ وطن کے لیے دشمنوں کے مقابلے میں صفیں آراستہ کرتے ہوئے مجاہدین فی سبیل اللہ بن کر جہاد کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ بھی ان سے محبت فرماتا ہے جس کا وعدہ قرآنِ کریم میں فرمایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ کا اثر، عالمی منڈی میں تیل 111 ڈالر فی بیرل، وال سٹریٹ کی ریکارڈ تیزی بھی رک گئی
علامہ محمد حسین اکبر کا کہنا تھا کہ معرکۂ حق و باطل بنیان مرصوص کی عظیم کامیابی اور فتح کو ایک سال ہو چکا ہے۔ اس مقدس جہاد کی فتح و کامرانی کی یاد میں پوری پاکستانی قوم اپنی پاک افواج اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ آج بھی کھڑی ہے اور ان شاء اللہ کھڑی رہے گی۔ یہ اسی قومی یکجہتی اور بنیان مرصوص کی بے مثال کامیابی کے نتائج ہیں کہ آج پاکستان اقوامِ عالم میں ایک مصلح اور مضبوط و مستحکم ملک کے طور پر ابھرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوامِ عالم اور عالمی ادارے پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی، معاشی، فکری و علمی استحکام اور تعاون کے معاہدے کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستانی قوم اقوامِ عالم کے سامنے اپنے سر فخر سے بلند سے بلند تر ہوتے دیکھ رہی ہے اور اقوامِ عالم میں پاکستان کا اعتبار اور وقار پہلے سے کہیں زیادہ بلند ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات پوری قوم پر عیاں ہے کہ ہمارے پڑوسی ممالک اسرائیل و ہندوستان اور دیگر استعماری طاقتوں کے آلہ کار اور سہولت کار بن کر وطنِ عزیز کے داخلی و خارجی امن کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہمیں اپنے عظیم مخلص پڑوسی ملک جمہوری اسلامی ایران اور مملکتِ سعودیہ عربیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنا چاہیے اور ان مشکل ترین حالات میں جس طرح ہماری حکومت اور سربراہِ پاک افواج دن رات جنگ بندی اور امتِ مسلمہ کی وحدت کے لیے کوشاں ہیں، ان کاوشوں کو کامیابی سے ہم کنار ہونے کی دعا کریں اور علمی، فکری، صنعتی، معاشی اور دفاعی میدانوں میں باہمی اشتراک کے ساتھ مضبوط بنیادوں پر پیش قدمی جاری و ساری رکھیں۔







