مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کی بھارت میں مسلمان خاتون کے حجاب کی بے حرمتی کی شدید مذمت
شیعیت نیوز : مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان نے بھارت میں ایک مسلمان خاتون کے حجاب کی بے حرمتی کے نہایت افسوسناک، شرمناک اور قابلِ مذمت واقعے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر ایک اعلیٰ حکومتی عہدے پر فائز شخصیت کی جانب سے یہ غیر انسانی اور غیر اخلاقی اقدام سامنے آیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حجاب نہ صرف ایک مسلمان عورت کی مذہبی شناخت اور دینی آزادی کی علامت ہے بلکہ یہ اس کے بنیادی انسانی حقوق کا بھی حصہ ہے، جس کی پامالی کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اسلام عورت کو عزت، وقار اور تحفظ عطا کرتا ہے اور حجاب اسی عزت و عصمت کا عملی اظہار ہے۔ کسی بھی مسلمان خاتون کے حجاب پر ہاتھ ڈالنا دراصل اس کے ایمان، آزادی اور مذہبی تشخص پر حملہ ہے۔ یہ عمل اسلامی تعلیمات کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی انسانی حقوق کے چارٹر اور جمہوری اقدار کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شیخ احمد علی نوری کی پنجاب حکومت پر شدید تنقید، علامہ راجہ ناصر عباس پر تشدد کو فسطائیت قرار
مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان نے اس واقعے کو بھارت میں مسلمانوں بالخصوص مسلم خواتین کے خلاف بڑھتی ہوئی مذہبی عدم برداشت، اسلاموفوبیا اور انتہاپسندانہ رویوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔ بیان میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ ریاستی طاقت اور حکومتی منصب کو استعمال کرتے ہوئے کمزور اور بے گناہ طبقات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، او آئی سی، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور انصاف پسند حلقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی یقینی بنائیں اور بھارت میں مسلم خواتین کے مذہبی، سماجی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان نے واضح کیا کہ وہ مظلوم کے ساتھ اور ظالم کے خلاف کھڑے رہنے کو اپنا دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ سمجھتے ہیں۔ ہم اس مسلمان بہن کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مظلوموں کو صبر، حوصلہ اور سربلندی عطا فرمائے اور ظالموں کو ان کے اعمال کا انجام دکھائے۔







