سعودی عرب کی شراب کی فروخت میں نئی توسیع: امیر غیر ملکیوں کے لیے ‘الکوحل کی جنت’ کھل گئی، مردود عرب حکمرانوں کی توہینِ شریعت

10 دسمبر, 2025 10:32

شیعیت نیوز: سعودی عرب کی مردود عرب حکمرانی نے ایک بار پھر اسلامی شریعت کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے شراب کی فروخت تک رسائی میں توسیع کر دی ہے، جس کے تحت اب کم از کم 50 ہزار ریال (13,300 ڈالر) ماہانہ کمانے والے غیر مسلم غیر ملکی شہری ریاض میں موجود ملک کی واحد لائسنس یافتہ الکحل اسٹور سے خریداری کر سکتے ہیں۔ یہ اقدام بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی ویژن 2030 کی آڑ میں مغربی تقلید اور امریکی سامراج کی خوشامد کا ننگا مظہر ہے، جو اسلامی امت کی مقدس اقدار کو روندنے اور مردود آل سعود کی توہینِ شریعت کی مزید ایک کڑی ہے۔

یہ شراب کی دکان، جو صرف ایک سال پہلے غیر ملکی سفارت کاروں تک محدود تھی، اب ‘پریمیم ریزیڈنسی’ رکھنے والے امیر غیر ملکیوں کے لیے کھل گئی ہے، جو سعودی عرب کی تیل کی دولت پر پروان چڑھنے والے سرمایہ داروں اور ماہرین کو فریضہ دیتی ہے۔ خریداروں کو آمدنی کا ثبوت دکھانا ہوگا اور ان پر ماہانہ پوائنٹس سسٹم کے ذریعے حد مقرر کی گئی ہے، تاکہ یہ ‘انتخابی جنت’ صرف امیر طبقے تک محدود رہے اور عام مسلمان عوام سے دور رہے۔ سعودی حکام نے اس اقدام کو ‘غیر مسلم غیر ملکیوں کی سہولیات’ قرار دیا ہے، مگر یہ واضح طور پر اسلامی حرمتوں کی توہین اور مردود حکمرانوں کی مغربی تقلید کی کوشش ہے، جو قرآن مجید کی واضح ممانعت "إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ” (المائدہ:90) کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مہمند میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، کالعدم سپاہ صحابہ کے چھ دہشتگرد جہنم واصل

مردود عرب حکمرانوں کی یہ پالیسی نہ صرف اسلامی امت کے لیے شرمندگی کا باعث ہے بلکہ سعودی عوام کی غربت، بے روزگاری اور معاشی بحران کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ داروں کو راغب کرنے کی کوشش ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، یہ توسیع سعودی عرب کی معاشی تبدیلی کی آڑ میں شراب کی فروخت کو فروغ دینے کا حصہ ہے، جو آل سعود کی امریکی غلامی اور صہیونی اتحاد کی مزید ایک نشانی ہے۔ عالم اسلام کو چاہیے کہ وہ اس مردود نظام کے خلاف آواز اٹھائے اور شریعت کی پاسداری کا عزم مضبوط کرے۔

9:37 صبح مارچ 13, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔