ایران، پیر غلامان و خادمانِ حسینی کانفرنس، پاکستانی شاعرہ،مصنفہ اور ادیبہ معصومہ شیرازی کیلئے خصوصی اعزاز

25 نومبر, 2025 20:40

شیعیت نیوز: پیر غلام ۔۔رودادِ عشق۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیر غلامان و خادمانِ حسینی کانفرنس کا پروگرام ہر سال ایران کے ایک تاریخی اور اہم شہر میں منعقد ہوتا ہے، جس میں مختلف ملکوں کے شاعر، ذاکرین، اور نوحہ خوان تشریف لاتے ہیں۔ ایران کے مشہور و معروف مرثیہ خوان، نوحہ خوان، شاعر، اور خطیب حضرات کو بھی مدعو کیا جاتا بے۔۔اس سال اس متبرک سلسلے کا بائیسواں پروگرام ہے۔عزاداری کے حوالے سے اس عظیم الشان سلسلے میں ایک نشان اعزاز عطا کیا جاتا ہے جو ذکر حسین میں مصروف ان عاشقوں کو پیش کیا جاتا ہے جو پورے اخلاص کے ساتھ فرش عزا پر اپنی بہترین خدمات پیش کرتے ہیں۔ پیر غلام کا نشان اعزاز ان اہم شخصیات کو پیش کیا جاتا ہے جو اپنی پوری زندگی، نوجوانی سے لے کر بڑھاپے تک، واقعہ کربلا کو دنیا میں عام کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔۔

ان شخصیات میں خطباء شعراء اور مدح خوان شامل ہیں۔ اس سال کا پروگرام 12,13 اور 14 نومبر تک جاری رہا اس سلسلے کی بیشتر تقریبات روضہ امام رضا علیہ السلام میں منعقد ہوئیں ، جس میں داخل ملک کے علاوہ ہندوستان، پاکستان، جرمنی، افریقہ، افغانستان، عمان، ترکیہ، عراق، الجزایر، اور جمہوریہ آذربائیجان جیسے ممالک کی اہم شخصیات مدعو تھیں۔ پروگرام کے بعد مہمان شخصیات کو نفیس انعامات سے نوازا گیا۔۔ اس دفعہ پاکستان کہ شہر کراچی سے معروف شاعرہ، مصنفہ اور ادیبہ معصومہ شیرازی کوعزت بخشی گئی اور ان کو( پیر غلام) کا اعزاز عطا کیا گیا یعنی حضرت ابا عبداللہ کا بوڑھا غلام ۔۔یہ نشانِ اعزاز گویا مکتب وفا میں حبیب ابن مظاہر کی یاد تازہ کرتا ہے۔

ملت ایران ،پیر غلام، کی اس امتیازی حیثیت کو بہت تکریم کی نظر سے دیکھتی ہے۔۔ایران سے پیر غلام نامی ایک اخبار بھی شائع ہوتا ہے جس میں عزاداری میں اپنی بہترین خدمات دینے والی تمام بزرگ شخصیات کے تذکرے ان کی خدمات اور ان کی دنیا سے گزر جانے پر خصوصی خراج تحسین شامل ہیں۔یہ ایک خاص اعزاز ہے جو ابا عبداللہ الحسین کی جانب سے اپنے خادمین کو عطا کیا جاتا ہے۔یہ عہدہ صاحبان عرفان کے نزدیک خادمین سے بڑا عہدہ ہے کیونکہ خادم خدمت کرتا ہے اور اس کا اجر پاتا ہے جبکہ غلام اپنے جسم و روح کو اپنے آقا کے حضور پیش کر دیتا ہے۔۔اس کا ہم و غم اس کی زندگی کے مہ و سال اپنے آقا کی خوشنودی کے لیے وقف ہو جاتے ہیں۔۔یہ لقب عشق کی بڑی لطیف کیفیت کا اظہار ہے گویا عاشق اپنا سب کچھ اپنے آقا کے حضور قربان کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے جس طرح خود ابا عبداللہ نے اپنا سب کچھ عشق الہی میں قربان کر دیا۔

الحمدللہ امام رؤف علی ابن موسیٰ رضاعلیہ السلام کے روضہِ مطہر میں منعقدہ یہ تین روزہ پیر غلامان و خادمانِ حسینی کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔

کانفرنس میں کئی ممالک کے ذاکرین عظام نے شرکت کی ۔دنیا بھر سے آئے ہوئے منقبت خوان ،نوحہ خان اور ذاکرین عظام نے سخن ہائے عاشقانہ پیش کیے۔ ملک کے مشہوردانشور علماء نے ذکر حسینی کے فکری نظریاتی اور عرفانی امور کے متعلق بیش بہا اور لطیف نکات بیان کیےاور عزاداری کی بقا اور اور اس کے فکری اہداف کی نشاندہی فرمائی۔

اس تین روزہ کانفرنس میں ایران کے تقریبا تمام معتبر اور بہترین علماء نے علمی نشستوں کی صورت میں رزق علم تقسیم کیا اور ایسے لطیف پیرائے میں رزم حسینی کے عملی درس عطا کیے کہ قلب و روح معطر ہو گئے۔

شب شعر جیسی یادگار محفلِ سخن نے ایسا تبرکِ عشق تقسیم کیا کہ دل باغ باغ ہو گیا۔۔ایران کے عالی فکر شعراء نے بہترین شعری کلام پیش کیے اس کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک سے آنے والے شعراء نے بھی اپنے سخن ہائے گرام مایہ سماعتوں کی نظر کیے۔جہاں مدح خانوں کے ولائی کلام نے دلوں کو گرمایا وہاں پرتاثیر رثائی کلام نے فرش عزا کو عرش عزا بنا دیا۔۔

مولا امام رضا کی میزبانی میں اور گنبد طلائی کے سائے میں گزارے ہوئے یہ تین دن ہمیشہ یاد رہیں گے۔ان تین دنوں میں روضہ مطہرِ امام رضا میں مختلف تقریبات برپا ہوئیں۔ ہر تقریب کا اپنا لطف اور اپنا انداز تھا۔ان پروگرامز میں ملک کی معروف شخصیات شہداء کے ورثاء اور علم و ادب کے معروف نام بھی شامل تھے۔ شہداء کی گراں قدر قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے شہداء کے ورثا کو دعوت دی گئی جن کے ایمان افروز گفتگو نے قلب و روح کو ایک نیا جذبہ عطا کیا۔

یاد رہے یہ کانفرنس ان ذاکرین شعراء اور مدح خانوں کی عزت افزائی کے لیے برپا کی گئی جنہوں نے اپنی ساری زندگی ذکر حسین کو ہدیہ کر دی۔۔تقریبا پانچ سو ذاکرین شعراء اور مدح خوانوں نے اس بابرکت نورانی سلسلے میں شرکت کی اگرچہ زبانیں الگ الگ تھیں ملک الگ الگ تھے لیکن دل کی دھڑکنوں میں نام حسین یکساں منور تھا بے شک حسین ع کی محبت تمام انسانوں کو یکجا کر دیا کرتی ہے”حب الحسین یجمعنا”۔۔۔ڈائننگ ہال میں کھانے کے دوران بڑی بڑی علمی شخصیات کو اپنے درمیان پانا ایک روح پرور تجربہ تھا۔وہ دانشور علماء کہ جن کا ایک زمانہ مداح ہے ان سے مل کر ان سے بات کر کے ایک عجیب روح پرور کیفیت طاری ہوتی تھی جو بیان سے باہر ہے۔۔ایرانی ذاکرین کے رقت آمیز کلام روحِ عزاداری کو زندہ کرتے ہوئے نظر آئے ۔

یہ بھی پڑھیں : تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اہم اجلاس، سندھ بھر میں عوامی رابطہ مہم کے آغاز کا اعلان

امام حسین امام الناس ہیں اس کا تجربہ تمام ذاکرین عظام سے مل کر ہوا جن کی زبانیں الگ الگ تھیں مگر دل باہم پیو۔ست تھے خدا کرے کہ ہم بھی عزاداری کے فروغ کے لیے ایسے ہی روح پرور سلسلے جاری کرسکیں تاکہ عزاداری ایک ایسے عاشقانہ سلسلے میں تبدیل ہو جائے جہاں غلامان حسین اپنا سب کچھ راہ حسینی کے لیے ہدیہ کرنے پر تیار ہو جائیں۔۔۔یہ بھی حقیقت ہے کہ منبر حسینی ایسا وسیلہ ہے کہ ہر انسان بلا تفریق رنگ و نسل اور بغیر تفریق سن و سال اس مکتب سے فیض یاب ہو سکتا ہے ایک ایسا عمومی رابطہ جو معاشرے میں بہترین تبدیلی اور فکری بلندی کا امین بن کر نسلوں کو اخلاقی، اعتقادی، روحانی اور عرفانی وجدان عطا کر سکتا ہے اس لیے خطباء کی تربیت اور ان کی عزت افزائی ایک عظیم الشان انقلاب کی نوید بن سکتی ہے یہی منبر حسینی تھا جس نے ایرانی انقلاب جیسے عظیم الشان رزمیے کی بنیاد رکھی اور یہی منبر حسینی ہے جس نے ہزار ظلم و ستم اور طاغوت کی سیاہ کار قوتوں کے مظالم کے بعد بھی مکتب اہل بیت کو زندہ و پائندہ رکھا۔۔گویا یہ منبر ایک ایسا آفاقی انقلابی اور لازوال مدرسہ ہے جس کی جڑیں مضبوط کر کے پورے معاشرے کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔۔

ادارہ شیعیت نیوز ملت ایران کو خراج تحسین پیش کرتا ہے کہ انہوں نے صاحبان منبر یعنی خطباء ،شعرا اور مدح خوانوں کو جمع کر کے ایک بین الاقوامی فکری انقلاب کی بنیاد رکھی ہے جس کے نتائج انشاءاللہ ان تمام ملکوں میں نظر آئیں گے دعا ہے کہ یہ سلسلہ ایک عظیم الشان تربیت کی صورت میں جاری و ساری رہے اور امام رضا علیہ السلام کی راجدھانی رزق عشق تقسیم کرتی رہے۔

عزاداری کے فروغ کے لیے یہ عظیم الشان اجتماع ہمیشہ جاری و ساری رہے۔اور عزاداری کا یہ عظیم رزمیہ زمانے کی ساری باطل قوتوں کو لرز اتا رہے۔۔
اگر غور کیا جائے تو مدارس دینیہ میں عمومی معاشرے کے چند فیصد لوگ اکتساب کرتے ہیں اور معاشرے کا ایک مخصوص طبقہ ان سے فیض یاب ہوتا ہے جبکہ منبر حسینی وہ عالمی اوپن یونیورسٹی ہے جس میں ہر عمر کے لوگ پورے عقیدے عشق اور محبت کے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور کہے گئے سخن ہائے عشق سے اپنے دلوں کو منور کرتے ہیں سب سے موثر اور پرتاثیر تبدیلی فقط منبر حسین سے ممکن ہے اس لیے اس عالمی مدرسے کی عظیم برکات سے فیض یاب ہونے کے لیے خطباء کی تعلیم و تربیت کا بہترین اہتمام اور ان کی عزت افزائی ضروری ہے۔

کانفرنس کے یہ تین روز ذاکرین مدح خوان اور شعراء کے لیے ایک بہترین تجربہ تھے جس میں فکر حسینی کے بے شمار زاویے بے شمار جہتیں اور عہد تازہ کے المیوں اور مصائب میں نعرہ ھیھات کا شعور زندہ ہوا ۔ عہد موجود کی یزیدی قوتوں کے مقابل تیغ بکف ہونے کا حوصلہ ملا ۔۔

حسینی قیام کے پرچم تلے دنیا بھر سے آئے ہوئے ذاکرین نے اپنے مولا سے عہد و پیمان کیے اور عہد وفا باندھےمیں تادیر اس عظیم تجربے کا لطف اٹھاؤں گی اور حقیقت ہے کہ یہ تین روز میری زندگی کے روشن ترین دن تھے۔آخری دن رئیس صدا و سیما کی صدارت میں تمام پیر غلامان حسینی نے جدید دور کی غاصب قوتوں کے خلاف ایک نئے عزم کے ساتھ ممبر حسینی پر اپنے حصے کا فرض نبھانے کا عہد وفا کیا۔جسے ملک کے تمام چینلز نے نشر کیا یہ تمام تقریبات ایران کے مقامی چینلز پر براہ راست نشر کی گئیں۔۔

3:47 صبح مارچ 8, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top