شیعہ مخالف پراپیگنڈے اور ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ؛ جعفریہ الائنس کا ہنگامی اجلاس

21 نومبر, 2025 10:33

شیعیت نیوز: جعفریہ الائنس پاکستان کے زیرِ اہتمام شیعہ تنظیمات اور عمائدین کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف تشدد اور منفی پراپیگنڈے میں بتدریج اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس کی صدارت جعفریہ الائنس کے سینئر نائب صدر (قائم مقام صدر) مولانا نثار قلندری نے کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ کراچی میں ایک بار پھر محب وطن شیعہ شہریوں کو کالعدم دہشتگرد تنظیموں کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جنہیں قتل و غارت گری کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ یہ کالعدم تنظیمیں کراچی سے لے کر اسلام آباد تک پابندیوں کے باوجود جلسوں اور اجتماعات میں شیعہ مسلمانوں کی اعلانیہ تکفیر کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : غزہ پر امریکی قرارداد کے گہرے اثرات: فلسطینی مزاحمت کے مستقبل پر سنگین سوالات

رہنماؤں نے کہا کہ ایک طرف ملت جعفریہ کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے—حال ہی میں دو شیعہ نوجوان عادل اور محمد حیدر کو قتل کیا گیا، مگر آج تک قاتل نامعلوم ہیں—اور دوسری طرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے شیعہ نوجوانوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اجلاس میں سندھ حکومت کے بعض وزراء اور اعلیٰ پولیس افسران کے کردار پر بھی سخت تنقید کی گئی۔

رہنماؤں نے کہا کہ ان حکام کا بنیادی فرض شہریوں کی حفاظت ہے، مگر اس کے برعکس محب وطن شیعہ شہریوں اور پوری ملت جعفریہ کا "میڈیا ٹرائل” کیا جا رہا ہے، جو انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔

اجلاس میں وفاقی اور سندھ حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ کالعدم دہشتگرد تنظیموں کی فرقہ وارانہ سرگرمیوں کو پوری طرح روکا جائے، اور ان کے خلاف فرقہ واریت پھیلانے اور توہینِ مذہب کے قوانین کے تحت قانونی کارروائی کی جائے۔ مزید کہا گیا کہ شیعہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ اور نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر ختم کرتے ہوئے مؤثر تحفظ فراہم کیا جائے۔ مکتبِ جعفریہ کے خلاف چلائی جانے والی منظم میڈیا مہم کو روکا جائے اور اس کے ذمہ داران کو سخت قانونی انجام تک پہنچایا جائے۔

شرکاء نے آخر میں واضح کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مزید سخت احتجاجی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

5:26 صبح مارچ 8, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top