غزہ پر امریکی قرارداد کے گہرے اثرات: فلسطینی مزاحمت کے مستقبل پر سنگین سوالات

21 نومبر, 2025 10:29

شیعیت نیوز: سلامتی کونسل میں غزہ کے حوالے سے امریکی قرارداد کی منظوری کے ساتھ ہی فلسطینی عوام کے حقوق پامال ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ بین الاقوامی انتظامات کے مطابق، ایک عبوری بین الاقوامی انتظامیہ کے ذریعے غزہ میں مزاحمت کو غیر مسلح کرنا اولین ترجیح قرار دی گئی ہے۔ اس عبوری انتظامیہ کو وسیع اختیارات حاصل ہوں گے، ان انتظامات میں یہ بھی شامل ہے کہ صہیونی فوج کا غزہ سے انخلا اس علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال کے استحکام سے مشروط ہوگا؛ یعنی قابضین بدستور فلسطین کے میدان میں ایک سکیورٹی کھلاڑی رہیں گے۔ یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے کہ مزاحمت آئندہ مرحلے میں اس قرارداد کے نتائج سے کس طرح نمٹے گی۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کی اصل طاقت عوام کی حمایت ہے، میزائل نہیں: ایرانی اسپیکر قالیباف

غزہ کے لئے امریکی قرارداد کے خطرات:
اگرچہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکی قرارداد کا مقصد جنگ بندی کے معاہدے کو مضبوط کرنا اور غزہ میں انسانی امداد کے داخلے پر پابندیوں کو کم کرنا ہے، لیکن عرب تجزیہ نگار وسام عفیفہ کا کہنا ہے کہ اس قرارداد کے سنگین خطرات ہیں، جن میں شامل ہیں:

غزہ کا طویل عرصے تک بین الاقوامی حیثیت اختیار کرنا اور اس علاقے کا انتظام ایک ادارے کے تحت چلنا جسے "امن کمیٹی” کہا جاتا ہے، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے میں شامل ہے۔

مزاحمت کو غیر مسلح کر کے فلسطینی قوت کو ختم کرنا۔

بیرونی شرائط کے تحت غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کی واپسی، جس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام یا فلسطینی خودمختاری کی ضمانت کا عمل کسی واضح ٹائم فریم کے بغیر مؤخر ہو جائے گا۔

اگرچہ امریکی قرارداد کو ۸ عرب و اسلامی ممالک کی سیاسی حمایت حاصل ہے، جو اسے فلسطینی ریاست کے قیام کا راستہ سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عرب ممالک کی حمایت دراصل فلسطینی عوام کے حقوق کے خاتمے کے لیے اخلاقی و سیاسی جواز فراہم کرتی ہے۔

فلسطینی قومی گروہوں اور قوتوں نے اس قرارداد کے خطرات سے خبردار کیا ہے اور اسے غزہ پر بین الاقوامی حاکمیت مسلط کرنے اور صہیونی مفادات کے مطابق جانبدارانہ نقطہ نظر کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان گروہوں نے یہ بھی کہا کہ مزاحمت کے ہتھیاروں کے بارے میں کسی بھی بحث کو ایک داخلی سیاسی عمل کے دائرے میں ہونا چاہیے، جو قبضے کے خاتمے، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی ضمانت دے۔

امریکی قرارداد کے بارے میں مزاحمت کی ممکنہ حکمت عملی
وسام عفیفہ نے امریکی منصوبے کے مقابلے میں مزاحمت کے ممکنہ ردعمل کے منظرنامے بیان کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:

فلسطینی قومی و سیاسی سطح پر امریکی قرارداد کی مشروعیت کو ختم کرنا اور اس پر زور دینا کہ یہ ایک بیرونی مسلط شدہ منصوبہ ہے، جو وسیع فلسطینی قومی اتفاق رائے سے محروم ہے اور فلسطینی عوام کے مستقبل کے لیے کسی طور پر لازمی فریم ورک نہیں ہے۔

ایک جامع قومی راستہ تشکیل دینا تاکہ امریکی قرارداد کے بعد پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹا جا سکے اور فلسطین کی مشروعیت کو مزاحمت اور تاریخی حقوق کی بنیاد پر دوبارہ تعمیر کیا جا سکے۔

فلسطینی سیاسی تجزیہ نگار ایاد القرا کا بھی کہنا ہے کہ فلسطینی گروہوں کی جانب سے مزاحمت کے غیر مسلح کرنے سے متعلق کسی بھی شق کو مسترد کرنا اور اسے قبضے کے خاتمے سے جوڑنا ان کے غیر متزلزل موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی گروہ عرب ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ صہیونی منصوبوں کے مقابلے میں مضبوطی سے کھڑے ہو سکیں۔

3:46 صبح مارچ 8, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top