مؤمن کی علامت یہ ہے کہ نامِ حسینؑ سنتے ہی دل پگھل جائے اور آنکھ نم ہو جائے: حجۃ الاسلام و المسلمین انصاریان
شیعیت نیوز: حجۃ الاسلام و المسلمین حسین انصاریان نے حسینیہ ہمدانیهای تهران میں ایامِ فاطمیہ کی مناسبت سے خطاب کرتے ہوئے ’’کلمہ‘‘ کی حقیقت اور اس کی اثر انگیزی پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ الفاظ جو معنویت رکھتے ہوں—جیسے کمال، حیا، غیرت اور مروّت—انسان کی شخصیت سنوارتے ہیں، لیکن بےمعنی الفاظ محض آواز ہیں اور کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتے۔
یہ بھی پڑھیں : تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کال پر 27 ویں غیر آئینی ترمیم کے خلاف ایم ڈبلیوایم کےتحت ملک گیر یوم احتجاج منایا گیا
انہوں نے حضرتِ آدم و حواؑ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قرآن واضح بیان کرتا ہے کہ شیطان نے انہیں لغزش میں ڈالا۔ انہوں نے اس غلط تصور کو مسترد کیا کہ “حوا کی وجہ سے آدم جنت سے نکلے”۔ ان کا کہنا تھا:
’’یہ قرآن کے خلاف اور مادرِ انسانیت کی توہین ہے‘‘۔
حجۃ الاسلام انصاریان نے کہا کہ یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ چھوٹی لغزش بھی انسان کو بڑی نعمتوں سے محروم کرسکتی ہے، اور امتِ محمدیہ بھی گناہ کے نتائج سے مستثنیٰ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حضرت آدمؑ نے جو ’’کلمات‘‘ خدا سے سیکھے، انہیں پڑھنے سے توبہ قبول ہوئی۔ یہی شرعی کلمات ہیں جن کی وجہ سے نکاح کے چند الفاظ دو نامحرم کو ایک لمحے میں محرم بنا دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ:
’’نامِ حسینؑ سن کر دل کا پگھل جانا مؤمن کی نشانی ہے، یہ ایک کلمے کا اثر ہے‘‘۔
استادِ اخلاق نے قرآن کریم کو ’’کلماتُ اللہ‘‘ کا عظیم ترین مجموعہ قرار دیا اور کہا کہ اس کے معانی کا کوئی اختتام نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان بھی خدا کا ایک ’’کلمہ‘‘ ہے؛ معنادار وہ ہے جو ایمان، تقویٰ اور عملِ صالح رکھتا ہو، اور بےمعنی وہ جو زندگی خواہشات میں گنوا دے۔







