تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کال پر 27 ویں غیر آئینی ترمیم کے خلاف ایم ڈبلیوایم کےتحت ملک گیر یوم احتجاج منایا گیا
شیعیت نیوز: غیر آئینی 27ویں ترمیم کی منظوری کے خلاف تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصرعباس کی ہدایت پر ملک گیر یوم احتجاج آج بعد نماز جمعہ منایا گیا۔
اسلام آباد،کراچی، لاہور، گلگت ، سکردو، کوئٹہ، ملتان، بہاولپور، جھنگ، لیہ، نوابشاہ، شکارپور، جیکب آباد، قصور ،شیخوپورہ سمیت دیگر شہروں میں جامعہ مساجد کے باہر پر امن احتجاجی مظاہرے منعقد کیئے گئے۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر 27 ویں غیر آئینی ترمیم نامنظور، جمہوریت زندہ باد اور آمریت مردہ باد کے نعرے درج تھے۔
مرکزی احتجاجی مظاہرہ جامعتہ مسجد الرضا بارہ کہو اسلام آباد کے باہر منعقد ہوا جس سے مرکزی صدر مجلس علمائے مکتب اہل بیت پاکستان علامہ سید حسنین عباس گردیزی، ایم ڈبلیوایم شمالی پنجاب کے آرگنائزر علامہ سید اکبر کاظمی نے خطاب کیا، مظاہرین کی بڑی تعداد شریک تھی ۔
27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ملک بھر میں منعقد ہونے والے یومِ احتجاج کے سلسلے میں مجلس وحدت مسلمین ضلع جیکب آباد کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ مظاہرے میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور آئین شکنی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم پاکستان کی جمہوریت اور آئین پر کھلا حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ "قائداعظم محمد علی جناح نے جمہوری جدوجہد کے ذریعے یہ وطن حاصل کیا۔ یہ ملک کوئی مفتوحہ علاقہ نہیں بلکہ ایک آزاد قوم کا آزاد وطن ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈال کر جعلی مینڈیٹ مسلط کرنے والے عناصر اپنی کرپشن اور لاقانونیت کو تاحیات تحفظ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ آئینی ترمیم ایک ایسے وقت میں پارلیمنٹ سے منظور کی گئی جب قائدِ حزبِ اختلاف موجود ہی نہیں تھے۔ رات کی تاریکی میں چوروں کی طرح آئینی ترمیم کر کے سپریم کورٹ کے اختیارات چھینے گئے، جس سے عدلیہ انتظامیہ کے ماتحت ہو جائے گی اور طاقتور مزید طاقتور ہو جائے گا۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج اور دیگر جج صاحبان کے استعفوں کو لاقانونیت کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیا۔
اس موقع پر ضلعی صدر نظیر حسین جعفری نے بھی مظاہرین سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے حکم پر پورے ملک میں 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف یومِ احتجاج منایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے پلیٹ فارم سے ہر قسم کی آئین شکنی، الیکشن فراڈ اور لاقانونیت کے خلاف بھرپور جدوجہد جاری رکھیں گے۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر 27 ویں آئینی ترمیم کو پاکستان کی آزادی، عدلیہ اور جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے نعرے درج تھے۔
مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام گلگت میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے خلاف قائد وحدت سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے حکم پر نمازِ جمعہ کے بعد مرکزی جامع مسجد امامیہ سے بے نظیر چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ احتجاجی ریلی سے صوبائی جنرل سیکرٹری ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان عارف حسین قنبری ،صوبائی نائب صدر پی ٹی آئی شاہد، صوبائی ایڈیشنل سیکرٹری پی ٹی آئی اجمل حسین، الیاس خان و دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
مقررین نے 27 ویں آئینی ترمیم کو جمہوی اقدار و ملکی سالمیت پر خودکش حملہ قرار دیتے ہوۓ اسے یکسر مسترد کیا اور کہا کہ عمران خان اور علامہ راجہ ناصرعباس کی قیادت میں ہر عوام دشمن حکومتی اقدام کا راستہ روکیں گے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان اور چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی کال پر علامہ مہدی کاظمی صاحب کی زیرقیادت جامعہ مسجد رجوعہ سادات کے باہر احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا جس میں ستائیسویں ترمیم کے خلاف نعرے بازی کی گئ جس میں مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں نے خصوصی شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں : 27 ویں آئینی ترمیم ، آج کی یہ آسانی کل کی قومی مشکل بن سکتی ہے،علامہ جواد نقوی
مظاہرین نے 27ویں آئینی ترمیم کو عوام دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے اس کو مسترد کیا اور کہاکہ پاکستان کے عوام اس ظالمانہ ترمیم کے خلاف میدان میں حاضر رہیں گے اور اس کا راستہ روکنے کی ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے، ہم تحریک تحفظ آئین پاکستان کے قائدین کی اگلی کال کے منتظر ہیں۔
قائم بھروانہ تحصیل شورکوٹ ضلع جھنگ مرکزی جامع مسجد زبیدہ قائم بھروانہ کے باہر چیئرمین ایم ڈبلیوایم پاکستان قائد وحدت ناصر ملت سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب کے حکم پرمجلس وحدت مسلمین ضلع جھنگ کی طرف سے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف بعد از نماز جمعہ ضلعی صدر ایم ڈبلیوایم ضلع جھنگ مولانا سید روح اللّٰہ کاظمی کی زیر قیادت احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
مولانا روح اللہ کاظمی نےکہا کہ پاکستان کے غیور عوام تحریک تحفظ آئین پاکستان کی پلیٹ فارم پر متحد ہیں، کسی صورت غیر آئینی ترامیم کو قبول نہیں کریں گے، یہ ترامیم عوام کے حقوق پر کھلا ڈاکہ ہیں۔
قائد وحدت سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری حفظہ اللہ کے اعلان پر لبیک کہتے ہوئے بعد از نمازِ جمعہ جامع مسجد صاحب الزمان اسلام پورہ میں ستائسویں آئینی ترمیم کے خلاف مجلس وحدت مسلمین ضلع لاہور کی کی جانب سے علامتی احتجاج کیا گیا۔ احتجاج میں ضلعی کارکنان سمیت ضلعی صدر نجم خان نجم بھی شریک تھےاس موقع پر صوبائی رہنما علامہ سید غضنفر علی نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کی بقاء، استحکام اور ترقی کے لیے آئین کی بالادستی نہایت ضروری ہے، جبکہ ستائسویں آئینی ترمیم آئینِ پاکستان کی روح کے صریحاً خلاف ہے۔
علامہ غضنفر علی نقوی نے کہا کہ یہ ترمیم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئینی ڈھانچے اور بنیادی شناخت کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 1 اور آرٹیکل 2 میں درج ہے کہ کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جا سکتا، مگر ستائسویں آئینی ترمیم قرآن و سنت سے متصادم ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی باشعور قوم ایسی کسی بھی غیر آئینی اور غیر شرعی ترمیم کو مسترد کرتی ہے اور اس کے خلاف بھرپور آواز بلند کرتی رہے گی۔
امامیہ کالونی تحصیل فیروز والا ضلع شیخوپورہ میں مجلس وحدت مسلمین ضلع شیخوپورہ کی طرف سے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف بعد نماز جمعہ احتجاج کیا گیا۔
احتجاج میں صوبائی جنرل سیکرٹری سید حسن رضا کاظمی اور صدر ضلع شیخوپورہ سید علی عرفان نقوی نے شرکت کی اور مظاہرین کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔
مظاہرین نے حکومت کی جانب سے 27 ویں غیر آئینی ترمیم کی منظوری کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فارم 47 کےحامل جعلی حکمران اپنے کھوکلے اقتدار کی بقاءکے لیئے جعلی قانون سازیاں کررہے ہیں۔ جسے 25 کروڑ عوا م کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف ملک گیر احتجاج، بہاولپور میں بھی بڑا احتجاج ریکارڈ کروایا گیا، بہاولپور میں 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے احتجاجی ریلی مسجد اہل بیت نبوت ٹبہ بدر شیر کے باہر نکالی گئی۔ ریلی میں کارکنان کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جنہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس ترمیم کو واپس لیا جائے۔ ریلی کے شرکا نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جبکہ رہنماوں نے خطاب میں کہا کہ 27ویں ترمیم عوامی حقوق کو محدود کرنے کی کوشش ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
مجلس وحدت مسلمین ضلع لیہ کے زیراہتمام تحریک تحفظ آئین پاکستان کی اپیل پر 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف ملک بھر کی طرح لیہ میں بھی نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، احتجاجی مظاہرہ جامع مسجد ابو طالب کے سامنے کیا گیا، احتجاج میں صوبائی رکن ورکنگ کمیٹی جنوبی پنجاب صفدر حسین خان، ضلعی رہنما ساجد حسین گشکوری اور دیگر نے شرکت کی۔ مظاہرے کے شرکاء نے پاکستان زندہ باد، آئین پاکستان زندہ باد، 27ویں آئینی ترمیم مردہ باد، آمریت مردہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے صفدر حسین خان نے کہا کہ آئینی ترامیم ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، سیاستدانوں کے گناہ چھپانے کے لیے ترامیم لائی جارہی ہیں، کاش یہ سیاستدان عوام کے تحفظ اور اُن کے حقوق کے لیے کوئی بل پاس کراتے ؟۔
مجلس وحدت مسلمین ضلع ملتان کے زیراہتمام تحریک تحفظ آئین پاکستان کی اپیل پر ملک بھر کی طرح ملتان میں بھی نماز جمعہ کے بعد 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرے کی قیادت صوبائی آرگنائزر مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب علامہ قاضی نادر حسین علوی، ضلعی آرگنائزر ملتان عون رضا انجم ایڈووکیٹ، انجینئر سخاوت علی سیال، علامہ مجاہد جعفری، علامہ جعفر انصاری، جواد رضا جعفری نے کی۔ مظاہرین نے پاکستان زندہ باد، آئین پاکستان زندہ باد، 27 ویں آئینی ترمیم مردہ باد کے نعرے لگائے، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے علامہ قاضی نادر حسین علوی نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
اُنہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کی حفاظت ہر شہری کا فریضہ ہے، آئین کو مسخ کرنے والوں کا محاسبہ کریں گے، حاکمیت صرف اللہ کی ہے 27 ویں آئینی ترمیم شریعت کے منافی ہے، جلدبازی میں ایسی ترامیم لائی جا رہی ہیں جو ملکی مفاد میں نہیں، چند افراد کو اس ملک میں طاقتور بنا کر قوم پر مسلط کیا جا رہا ہے، حالیہ ترامیم چاہے وہ 26ویں ہوں یا 27ویں قومی مفاد میں نہیں ہے، ہم حکومت کو واضح کر دینا چاہتے ہیں نہ کل کسی ایسی ترمیم کو قبول کیا تھا اور نہ آج کریں گے۔ اس موقع پر مولانا علی رضا حسینی، ثقلین نقوی، ہادی گردیزی سمیت دیگر موجود تھے۔
قائدِ وحدت سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری حفظہ اللہ کے اعلان پر مجلسِ وحدتِ مسلمین ضلع قصور کی جانب سے نمازِ جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔احتجاج میں شرکاء نے ستائسویں آئینی ترمیم کے خلاف بینرز اٹھا رکھے تھے اور واضح طور پر اپنا مؤقف پیش کیا کہ ستائسویں آئینی ترمیم نامنظور۔اس موقع پر ضلعی رہنما مجلس وحدت مسلمین ضلع قصور چوہدری ضیغم عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئینی ترمیم کسی بھی صورت قبول نہیں، ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس غیر آئینی ترمیم کو فوری واپس لیا جائے۔مزید کہا کہ مجلسِ وحدتِ مسلمین ہمیشہ آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لئے کھڑی رہے گی۔
شایار نگر میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے خلاف قائد وحدت سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے حکم پر نمازِ جمعہ کے بعد پُرامن اور علامتی احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ اس موقع پر سابق رکن اسمبلی و نائب صدر مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان حاجی رضوان علی نے ضلعی صدر ایم ڈبلیو ایم نگر انجینئر ناصر مومی اور ضلعی کابینہ کے اراکین کے ہمراہ شرکت کی اور شرکائے احتجاج سے خطاب کیا۔
حاجی رضوان علی نے اپنے خطاب میں 27ویں آئینی ترمیم کو آئینِ پاکستان اور جمہوری اصولوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کیا۔ انہوں نے اس "کالے قانون” کی نوعیت اور اس کے ممکنہ منفی اثرات سے عوام کو آگاہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوامی شعور بیدار کرنا وقت کی ضرورت ہے اور اس آئینی ترمیم کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی.







