27ویں آئینی ترمیم کو مسترد، 21 نومبر کو یوم سیاہ منایا جائے گا: تحریک تحفظ آئین پاکستان
شیعیت نیوز: تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ہنگامی سربراہی اجلاس مورخہ 14 نومبر 2025 کو اسلام آباد میں مشر محمود خان اچکزئی کی زیرِ قیادت منعقد ہوا، جس میں ملک کی اہم سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس غیر آئینی ستائیسویں ترمیم کے تناظر میں بلایا گیا تھا۔
اجلاس میں شریک اہم رہنماؤں میں اسد قیصر، علامہ راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر خان، سلمان اکرم راجا، اختر مینگل، زین شاہ، ساجد ترین، مصطفیٰ نواز کھوکھر، فردوس شمیم نقوی، حسین یوسفزئی، خالد یوسف چوہدری، علی اصغر خان اور شوکت بسرہ شامل تھے۔
اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں ستائیسویں اور چھبیسویں آئینی ترامیم کو آئین کے بنیادی ڈھانچے کے سراسر خلاف قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان ترامیم نے عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت کر دیا ہے، سپریم کورٹ کے اختیارات و وجود کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور شخصی بنیادوں پر آئین میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، جنہیں مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : علماء کے لئے تنخواہ کا معاملہ مجلس علما مکتب اہلبیت پاکستان کی جانب سے و اضح موقف
اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ متنازعہ ترامیم عدلیہ کو عملاً مفلوج کرچکی ہیں۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے سپریم کورٹ کے سینیئر جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفوں کو آئین پر حملے کے خلاف جرات مندانہ مزاحمت قرار دیتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کوئی بھی شخص یا عہدے دار آئین و قانون سے بالاتر نہیں، جبکہ شخصیات کو استثنیٰ دینا قرآن و سنت، جمہوریت اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، اس لیے ایسے استثنیٰ کو بھی مسترد کیا جاتا ہے۔
اعلامیے میں زور دیا گیا کہ متفقہ آئین کو متنازعہ بنا کر ملک کی سلامتی اور وحدت کے ساتھ "گھناؤنا کھیل” کھیلا گیا ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ آئینی ترامیم کے خلاف مزاحمت اور جدوجہد جاری رکھے گی اور آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے کے لیے بھرپور جمہوری احتجاج کیا جائے گا۔
اجلاس میں خیبر پختونخوا امن جرگہ کے اعلامیے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا اور حکومت سے اس پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا۔
تحریک نے پیر کے روز قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کی طرف سے پارلیمنٹ ہاؤس سے سپریم کورٹ تک واک کا اعلان کیا، جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں ترمیم کے خلاف قرار داد پیش کی جائے گی۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان بھی اسی روز پنجاب اسمبلی سے لاہور ہائی کورٹ تک مارچ کریں گے۔
مزید برآں، جمعہ کے روز ملک بھر میں یومِ سیاہ منایا جائے گا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے سابق وزیراعظم عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، پاکستان تحریک انصاف کی قیادت و کارکنان، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قائدین و کارکنان اور تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔
آخر میں تحریک نے مزدوروں، کسانوں، صنعت کاروں اور پسماندہ طبقات کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے حقوق کے حصول تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
خبر جاری کردہ:
اخوانزادہ حسین احمد یوسفزئی
ترجمان — تحریک تحفظ آئین پاکستان







