علماء کے لئے تنخواہ کا معاملہ مجلس علما مکتب اہلبیت پاکستان کی جانب سے و اضح موقف

14 نومبر, 2025 14:37

شیعیت نیوز: پنجاب حکومت کی طرف سے علما اور پیش نماز حضرات کے لیے بیت المال سے ماہانہ 15 سے 25 ہزار روپے تک وظیفہ مقرر کرنے کے فیصلے نے مذہبی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔

مجلسِ علماء مکتبِ اہلِ بیت پاکستان نے اس حکومتی اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ علما کا سماجی مقام بہت بلند ہے، تاہم حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے ساتھ جو شرائط و ضوابط عائد کیے گئے ہیں وہ بظاہر بدنیتی پر مبنی دکھائی دیتے ہیں۔

بیان میں قرآنِ کریم کی آیت "ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر…” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر مسلمانوں پر فرض ہے، اور حاکم وقت کے منکرات کے خلاف آواز اٹھانا احادیث میں افضل الجہاد قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پرھیں : مغربی کنارے میں مسجد کو نذرِ آتش کرنے کی کوشش، اسرائیلی فوج کی کارروائیاں جاری: مزید 25 فلسطینی گرفتار

مجلس علما کے مطابق حکومت کا یہ مالی وظیفہ عملی طور پر علما کی "زبان بندی” کے مترادف ہوسکتا ہے، جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ علما کو حاکمِ وقت کے بجائے اللہ تعالیٰ کے رازق ہونے پر بھروسہ ہے، کیونکہ “اللہ ہی بہترین رازق ہے”۔

یہ اعلامیہ مجلس علماء مکتب اہلِ بیت پاکستان کی جانب سے جاری کیا گیا۔

3:46 صبح اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔