ایران کی کامیابی کا راز فاطمی و زینبی مزاحمت کی ثقافت ہے، حجت الاسلام قمی
شیعیت نیوز : مشہد میں امام رضا (ع) کے حرم میں منعقدہ 22ویں بین الاقوامی اجلاسِ خادمینِ حسینی کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سازمانِ تبلیغاتِ اسلامی ایران کے سربراہ حجت الاسلام محمد قمی نے کہا کہ ذاکرین اور خادمینِ اہل بیت (ع) عاشورائی ثقافت کے تسلسل میں بے مثال کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حسینی ثقافت کی بقا اہل بیت (ع) کی شعائر کی تعظیم سے وابستہ ہے اور ذاکرین و خادمین اس تحریک کے اصل علمبردار ہیں۔
قمی نے زور دیا کہ آج ہر شخص پر واضح ہے کہ حسینی ایران ہمیشہ کامیاب رہے گا کیونکہ وہ فاطمی و زینبی ثقافت پر بھروسہ کرتا ہے۔ ہر میدان اور ہر آپریشن میں ہماری کامیابی کا راز "یا زہرا (س)” رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : دو فلسطینی نوجوانوں کا قتل سنگین جرم ہے، حماس و جہاد اسلامی
انہوں نے مزید کہا کہ رہبر معظم انقلاب نے فرمایا ہے کہ حسینی تحریک کبھی ختم نہیں ہوگی اور اس کے ہر شعبے میں علمبردار موجود ہیں۔ فقہ میں مراجع تقلید، معرفت و معنویت میں اہل عرفان، اور عزائے حسینی کے قیام میں خادمین و ذاکرین اس تحریک کو زندہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے خادمین حسینی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف مدح و مرثیہ کے فنکار نہیں بلکہ امام حسین (ع) کے مکتب کے ثقافتی سفیر ہیں—ایسی سافٹ پاور کے سفارتکار جو تسلیم اور ذلت کو قبول نہیں کرتے۔ ان کی زبان سے عاشورا کا پیغام زیادہ اثر انگیز ہے۔ انہوں نے برسوں اخلاص کے ساتھ خدمت کی ہے، بغیر کسی صلہ کی توقع کے، اور ان کے سفید بال اور دھوپ سے جھلسے چہرے اس عشق کی زبانی تاریخ ہیں۔
قمی نے کہا کہ خادمین حسینی ہمیشہ حق کے مدافع، مظلوم کے حامی اور سیدالشہدا (ع) کے بے لوث خادم رہے ہیں۔ آج ان کی لرزتی آواز اخلاص اور اصالت کی علامت ہے۔ شاید مصنوعی ذہانت آواز کو دوبارہ بنا سکے، لیکن اخلاص اور سوز کو نہیں۔ یہی آواز ہماری شناخت کی جڑوں کو زندہ رکھتی ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ خادمین حسینی زندہ خزانے ہیں، اور ان کے چہرے کی ہر لکیر ہزاروں مصائب اور آنسوؤں کی داستان سناتی ہے۔







