علامہ اقبالؒ کا پاکستان آج آئینی و عدالتی انحطاط کا شکار ہے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
شیعیت نیوز : سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے یومِ ولادت کے موقع پر کہا ہے کہ اقبالؒ نے غلام ذہنوں کو خودی کا درس دیا اور برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزاد، باوقار اور خودمختار ریاست کا تصور پیش کیا تھا، مگر آج پاکستان میں وہی آئینی و عوامی اصول عملاً پامال ہو چکے ہیں۔
سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ آج جب “اقبال کے پاکستان” کی بات کی جاتی ہے تو یہ سوال پوری طاقت کے ساتھ اٹھتا ہے کہ کیا یہ وہ پاکستان ہے جس کا تصور علامہ اقبالؒ نے پیش کیا تھا؟
انہوں نے کہا کہ اقبالؒ نے ایسی ریاست کا خواب دیکھا تھا جہاں قانون کی حکمرانی ہو، حکمران قوم کے خادم ہوں، اور عدل و مساوات ریاست کی بنیاد ہو۔ مگر افسوس آج قوم پر ایک غیر قانونی اور غیر آئینی ڈھانچہ مسلط ہے جو فارم 47 کی مصنوعی سیاست کے ذریعے عوامی رائے کو مسخ کر چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : استنبول مذاکرات ناکام افغان وفد تحریری معاہدے پر تیار نہ ہوا، اب کوئی اگلا مرحلہ نہیں، خواجہ آصف
انہوں نے کہا کہ آئین کو ایوانِ طاقت میں روند دیا گیا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے اور حق کی آوازے دبائی جا رہی ہیں۔ یہی وہ “چنگیزی” نظام ہے جس سے علامہ اقبالؒ نے امت کو خبردار کیا تھا۔ سیاست سے دین اور عدل کی روح نکال دی جائے تو ظلم باقی رہ جاتا ہے۔
سینیٹر نے کہا کہ یومِ اقبال صرف تقریبات کا دن نہیں بلکہ اجتماعی محاسبے کا دن ہے۔ اگر ہم اقبالؒ کے پاکستان کے وارث ہونے کے دعوے دار ہیں تو ہمیں اس ملک کو عدل، آزادی اور عوامی اقتدارِ اعلیٰ کے اصولوں پر استوار کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اقبالؒ کا پیغام آج بھی زندہ ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم زندہ قوم بن کر اس پیغام پر عمل کریں گے یا رسمی تقریبات کے شور میں غفلت کے ساتھ سوئے رہیں گے۔








