غزہ، بیروت اور دمشق جدید شہروں کو کھنڈرات میں بدل دیا گیا، علامہ سید ساجد علی نقوی
شیعیت نیوز: علامہ سید ساجد علی نقوی نے 31 اکتوبر شہروں کے عالمی دن (World Cities Day) کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ یہ دن اگرچہ اس سال “عوام کی سہولت پر مبنی جدید شہری نظام” کے عنوان سے منایا جا رہا ہے، لیکن غزہ، بیروت اور دمشق جیسے تاریخی شہر آج کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ جو کبھی جدید شہروں میں شمار ہوتا تھا، آج تباہی کی علامت بن چکا ہے۔ بیروت جو ترقی کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا، آج بیرونی جارحیت کا شکار ہے۔ دمشق جسے تاریخ میں روحانیت اور علم کا مرکز کہا جاتا تھا، وہاں اب کوئی پرسانِ حال نہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
“نیویارک سے لندن، قاہرہ سے استنبول تک ایک معاہدے کا جشن منایا گیا، مگر مظلوموں کی آہیں آج بھی عالمی ضمیروں کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔”
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ پاکستان کے بڑے شہر لاہور اور کراچی ماحولیاتی تبدیلیوں، سموگ، امن و امان اور اشیائے ضروریہ کی قلت جیسے شدید مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ایک عام آدمی اپنی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر سکتا تو “سمارٹ سٹیز” کا خواب کیسے ممکن ہے؟
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا یہ دن اگرچہ ایک مثبت سوچ کی علامت ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسانیت آج شرما چکی ہے، کیونکہ عالمی سطح پر وہی شہر تباہ کیے جا رہے ہیں جو کبھی امن، علم اور ترقی کے مراکز تھے۔
یہ بھی پڑھیں : اوکاڑہ میں سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، کالعدم لشکر جھنگوی کا خطرناک دہشت گرد گرفتار
علامہ سید ساجد علی نقوی نے اسلام آباد، کراچی اور لاہور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ
“دارالحکومت کے قدرتی حسن کو تباہ کر دیا گیا ہے، عوام عدم تحفظ اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ لاہور آلودگی میں سانس لے رہا ہے، کراچی جو کبھی غریب کی ماں تھا، آج بدامنی کا شکار ہے۔”
انہوں نے مطالبہ کیا کہ صرف دن منانے سے کچھ نہیں ہوگا، بلکہ شہروں اور شہریوں کے حقیقی تحفظ، مساوات اور انصاف کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں 31 اکتوبر کو عالمی یومِ شہروں (World Cities Day) منایا جاتا ہے۔ اس سال کا موضوع ہے:
“عوام کی سہولت پر مبنی جدید شہری نظام”
جس کا مقصد عالمی تعاون، پائیدار شہری ترقی، اور انسانی بہبود پر مبنی نظام کی تعمیر کو فروغ دینا ہے۔







