امریکی قانون سازوں کی متنازعہ قرارداد: مسجدالاقصی پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کرنے کی کوشش

31 اکتوبر, 2025 10:40

شیعیت نیوز : دو امریکی قانون سازوں نے ایک متنازعہ قرارداد پیش کی ہے جس کا مقصد مسجدالاقصی پر اسرائیلی قبضے کو باضابطہ طور پر تسلیم کرانا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، امریکی ایوانِ نمائندگان کے اراکین کلاؤڈیا ٹینی اور کِلی ہیگنز نے ایک مسودہ تیار کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل کی یک طرفہ حکمرانی کو تسلیم کرے اور یہودیوں کے لیے اس مقدس مقام پر مکمل رسائی اور عبادت کے حق کو منظور کرے۔

یہ بھی پڑھیں : جنگ بندی کا معاہدہ خاک میں، نتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مٹی پلید کر دی

تجزیہ کاروں نے اس اقدام کو ایک انتہائی خطرناک سیاسی منصوبہ قرار دیا ہے جو صہیونی انتہا پسندوں کے اس دیرینہ خواب کا حصہ ہے، جس کے تحت مسجدالاقصی کو زمانی و مکانی طور پر تقسیم کر کے اس پر مکمل اسرائیلی کنٹرول قائم کیا جانا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی، حماس اور دیگر مزاحمتی تنظیموں نے اس پیش رفت کو قدس اور مسجدالاقصی کی توہین قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ کی اس پالیسی سے اسرائیلی جارحیت میں مزید اضافہ ہو گا۔

یاد رہے کہ 1967ء میں قدس کے قبضے کے بعد اردن اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق صرف مسلمانوں کو مسجدالاقصی میں عبادت کی اجازت ہے، جب کہ غیر مسلم صرف زیارت کر سکتے ہیں۔ تاہم اسرائیلی حکومت اور انتہا پسند گروہ اس معاہدے کی بارہا خلاف ورزی کرتے آئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے اسرائیل کے اس یک طرفہ تسلط کی حمایت کی تو اس کے نتیجے میں قدس سمیت پورے مشرقِ وسطیٰ میں شدید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہوگی۔

12:09 صبح اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔