جنگ بندی کا معاہدہ خاک میں، نتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مٹی پلید کر دی

31 اکتوبر, 2025 09:20

شیعیت نیوز: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شرم الشیخ میں عالمی رہنماوں کو جمع کر کے فخر کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کا اعلان کیا اور خود کو امن کا علمبردار قرار دیا۔ تاہم، معاہدے پر عملدرآمد کو ایک ماہ ہونے سے قبل ہی صہیونی وزیراعظم نتن یاہو نے توقع کے عین مطابق معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کی اور غزہ پر نئے حملوں کا حکم جاری کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: غاصب اسرائیل کا مغربی کنارے میں 2000 نئے گھروں کی تعمیر کا اعلان

امریکی ویب سائٹ "انٹرسیپٹ” کے مطابق، ناجائز اسرائیلی حکومت نے وہ جنگ بندی توڑ دی ہے جس پر صدر ٹرمپ فخر کر رہے تھے۔ اس اقدام کے نتیجے میں امریکہ عالمی سطح پر مشکل پوزیشن میں آ گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ غاصب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے منگل کے روز غزہ پر شدید فضائی حملوں کا حکم دیا، جن میں کم از کم سو فلسطینی شہید ہوئے، جن میں درجنوں بچے بھی شامل تھے۔

انٹرسیپٹ نے کہا کہ غاصب اسرائیل کا مقصد فلسطینیوں کو اشتعال دلانا اور ردعمل حاصل کرنا ہے تاکہ غزہ کی تباہی کو جواز فراہم کیا جا سکے۔ غاصب اسرائیلی حکام معمولی فلسطینی مزاحمت کو بہانہ بنا کر حملوں کا تسلسل جاری رکھتے ہیں۔

امریکی صحافی جونا والڈز نے رپورٹ میں بتایا کہ یہ حملے اس وقت ہوئے جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مقبوضہ علاقوں میں ایک نئے امریکی فوجی اڈے کا دورہ کیا تھا۔ ان کا یہ دورہ اس بات کی علامت تھا کہ واشنگٹن جنگ بندی کے عمل کے لیے پرعزم ہے، مگر غاصب اسرائیل کے تازہ حملوں نے اس کوشش کو شدید نقصان پہنچایا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ صہیونی رژیم نے ان حملوں سے قبل امریکی حکومت کو اپنے منصوبے سے آگاہ کر دیا تھا۔

عرب امور کے تجزیہ کار رامی عبده کے مطابق، غاصب اسرائیل نے جنگ بندی کو شروع ہی سے کمزور کر دیا تھا کیونکہ اس نے انسانی امداد پر پابندیاں جاری رکھیں اور غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔ قابض اسرائیلی فورسز نے رفح کی اہم گزرگاہ کو بھی بند کر دیا اور کئی بار اس علاقے پر بمباری کی۔

1:52 صبح اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔