تکفیری دہشت گرد مارے جائیں تو فوری کارروائی، مگر شیعہ عزاداروں کے قاتل آج تک نامعلوم

31 اکتوبر, 2025 09:05

شیعیت نیوز: شہر میں شیعہ عزادار عادل حسین کی شہادت کے بعد ایک بار پھر پولیس اور ریاستی اداروں کے دوغلے رویے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ جب کوئی تکفیری دہشت گرد مارا جاتا ہے تو پولیس فوراً حرکت میں آتی ہے، قاتلین کی شناخت، تفتیش اور پریس کانفرنسیں شروع ہو جاتی ہیں، مگر شیعہ شہریوں کے قتل پر خاموشی چھا جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں کالعدم سپاہِ صحابہ کے دہشت گرد اورنگزیب فاروقی کی تکفیری کانفرنس کا پہلا نتیجہ: کراچی میں شیعہ نوجوان شہید

ذرائع کے مطابق، حال ہی میں کالعدم لشکرِ جھنگوی اور سپاہِ صحابہ سے تعلق رکھنے والا ایک دہشت گرد مارا گیا تو چند گھنٹوں میں اس کے قاتلوں کی شناخت اور تفتیش شروع کر دی گئی۔ لیکن عادل حسین جیسے بے گناہ شیعہ نوجوانوں کے قاتل آج تک نامعلوم ہیں۔

یہ رویہ عوام کے اعتماد کو مجروح کر رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل ریاستی انصاف کے نظام پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا قانون صرف ایک طبقے کے لیے متحرک ہے؟
اور کیا شیعہ مسلمانوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں؟

ملک بھر میں مذہبی و سماجی حلقوں نے اس امتیازی سلوک کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شیعہ شہریوں کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

4:38 صبح اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔