کراچی میں ٹرمپ منصوبے کے خلاف ایم ڈبلیو ایم کا بڑا احتجاج
شیعیت نیوز : مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے کراچی کے صدر علامہ شیخ محمد صادق جعفری نے جامع مسجد حیدر کرار اورنگی ٹاؤن کے باہر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی 25 کروڑ عوام ٹرمپ منصوبے کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔ ہمیں ٹرمپ کا نہیں، بلکہ قائداعظم محمد علی جناح کا پاکستان چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار عوام کو معاہدے سے متعلق بے وقوف نہ بنائیں۔ اگر کل کشمیری عوام کے بغیر ٹرمپ مسئلے کے حل کے لیے کوئی ایجنڈا پیش کیا جائے گا تو کیا حکومت اسے قبول کرے گی؟
علامہ صادق جعفری اور علامہ مبشر حسن نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف فلسطینی قوم کے بنیادی حقوق کی نفی کرتا ہے بلکہ غزہ کے مظلوم عوام کے خلاف یہود و نصاریٰ کی ایک منظم سازش ہے۔ ان کے مطابق غزہ کے عوام کو وطن، شناخت، خودمختاری اور جغرافیائی وحدت سے محروم کرنے کی یہ کوشش امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ منصوبے کا اصل مقصد غزہ کو سیاسی طور پر تنہا، معاشی طور پر مفلوج اور انسانی سطح پر تباہ کرنا ہے تاکہ مزاحمتی آواز کو مکمل طور پر خاموش کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ منصوبہ فلسطین کا سودا ہے یا عالمی سازش؟ علامہ حسن ظفر نقوی کا سخت مؤقف
رہنماؤں نے مزید کہا کہ غزہ کے عوام کو منظرنامے سے نکالنے کی کوشش بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور انسانی حقوق کے سراسر خلاف ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے فلسطینی سرزمین کی تقسیم اور غزہ کی علیحدگی کو ’’حل‘‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو دراصل صہیونی قبضے کو قانونی جواز دینے کی مذموم کوشش ہے۔ غزہ پر ناکہ بندی، معاشی پابندیاں اور عسکری حملے اسی منصوبے کے نفاذ کی صورت ہیں جو لاکھوں عوام کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کی مزاحمتی جماعتیں غاصب اسرائیل کے خلاف جائز دفاع کر رہی ہیں، جبکہ اسرائیل مسلسل مغربی کنارے اور غزہ پر حملہ آور ہے۔ امریکہ اور یورپ مشرق وسطیٰ میں امن کے خیر خواہ نہیں۔ ٹرمپ کی تجاویزات عرب و مسلم ممالک کو مسترد کرنی چاہئیں۔ عالمی برادری، اقوام متحدہ، اسلامی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس غیر انسانی سازش کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔
رہنماؤں نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے اور سینیٹر مشتاق سمیت 150 نہتے کارکنوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قافلہ جنگ کے لیے نہیں بلکہ بھوک اور پیاس سے تڑپتے غزہ کے بچوں اور مریضوں کے لیے امداد لے کر جا رہا تھا مگر اسرائیلی جارحیت نے پھر اپنے اصل عزائم دنیا پر عیاں کر دیے۔ رہنماؤں نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ عملی حمایت کرے، دوغلا رویہ ترک کرے اور مغوی کارکنوں کی فوری رہائی کے لیے اقدامات کرے۔
شرکائے احتجاج نے آخر میں امریکہ و اسرائیل کے پرچم بھی نذر آتش کیے۔







