پولیس اہلکاروں پر ٹارگٹ کلنگ میں تیزی؛ کالعدم لشکرِ جھنگوی اور سپاہِ صحابہ کے شواہد سامنے

18 ستمبر, 2025 11:58

شیعیت نیوز : رواں سال کے دوران شہر میں پولیس اہلکاروں پر دہشت گرد حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، اب تک اے ایس آئی سمیت چودہ اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق ان واقعات میں کالعدم لشکرِ جھنگوی اور سپاہِ صحابہ کے عسکری ونگ کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق رواں سال 12 فروری کو اسٹیل ٹاؤن میں کانسٹیبل خمیسو خان جبکہ 15 فروری کو سی ٹی ڈی کے کانسٹیبل عمران خان کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ وارداتیں کالعدم تنظیموں کے تربیت یافتہ دہشت گردوں نے انجام دی ہیں۔

اسی طرح اپریل سے ستمبر تک مختلف اضلاع میں مزید اہلکاروں کو منظم منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا گیا، جن میں کانسٹیبل محمد ایوب، فاروق، عبدالواجد، زین علی رضا، شہریار علی، وسیم اختر اور ہیڈ کانسٹیبل عبدالکریم شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد پولیس فورس میں خوف پیدا کرنا اور دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشنز کو کمزور کرنا ہے۔ سیکیورٹی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ لشکرِ جھنگوی اور سپاہِ صحابہ کا زیرِ زمین نیٹ워크 شہر کے مختلف علاقوں میں سرگرم ہے جو نہ صرف پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنا رہا ہے بلکہ حساس تنصیبات اور اہم شخصیات پر بھی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کراچی میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، کالعدم لشکر جھنگوی اور القاعدہ کے 5 کارندے گرفتار

ذرائع کے مطابق ان کالعدم تنظیموں کے سہولت کار شہر کے مختلف علاقوں میں فعال ہیں اور پولیس پر حملوں کے بعد دہشت گرد باآسانی فرار ہو جاتے ہیں۔ خفیہ اداروں کی غیر فعالیت اور بروقت انٹیلی جنس شیئرنگ نہ ہونے کے باعث دہشت گردی کی یہ لہر مزید سنگین صورت اختیار کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر لشکرِ جھنگوی اور سپاہِ صحابہ کے باقیات کو فوری طور پر جڑ سے ختم نہ کیا گیا تو یہ سلسلہ مزید پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے۔

5:08 صبح اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔