پنجاب یونیورسٹی میں تصادم؛ جمعیت طلبہ اور انتظامیہ آمنے سامنے
شیعیت نیوز : پنجاب یونیورسٹی ایک بار پھر میدانِ جنگ بن گئی۔ اسلامی جمعیت طلباء کی ریلی کے موقع پر کارکنوں اور یونیورسٹی کے سیکیورٹی گارڈز میں تصادم ہوا۔ جمعیت کے کارکنوں نے یونیورسٹی کی دو گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے۔ پولیس نے ہنگامہ آرائی کرنے والے طلباء کو گرفتار کر لیا۔
ترجمان یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ جمعیت یونیورسٹی انتظامیہ کو بلیک میل کرنا چاہ رہی ہے، ان کا پس پردہ مطالبہ برطرف کارکنوں کی بحالی ہے، جبکہ جمعیت کے برطرف کارکن مختلف جرائم میں ملوث تھے۔ ترجمان یونیورسٹی نے مزید بتایا کہ برطرف طلباء کے اسٹی آرڈرز عدالت سے خارج ہو گئے، موجودہ انتظامیہ نے جمعیت کی بھتہ خوری بند کی۔ اب جمعیت کو نہ تو مفت کھانا ملتا ہے اور نہ ہی ان کے کپڑے مفت دھلتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ جمعیت اب ہاسٹلز کے کمرے کرائے پر نہیں دے سکتی — دراصل جمعیت کو اپنے ناجائز دھندے بند ہونے کی تکلیف ہے۔ جمعیت کی ریلی میں غیر متعلقہ اور مشکوک افراد بھی موجود تھے۔ ترجمان جامعہ پنجاب نے کہا کہ غنڈہ عناصر کے تمام مطالبات بے بنیاد ہیں اور جمعیت کے پس پردہ وہ عناصر ہیں جو انتظامی بہتری برداشت نہیں کر پا رہے۔
یہ بھی پڑھیں : واشنگٹن کو ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں، وزارت خارجہ ایران
دوسری جانب اسلامی جمعیت طلبہ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بنیادی مسائل اور تعلیمی سہولیات کے فقدان پر احتجاج ریکارڈ کرانا چاہا، مگر انتظامیہ نے ہمارے پرامن احتجاج کو جان بوجھ کر پرتشدد بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ دشمن پالیسیوں، بلا جواز ڈگریوں کی منسوخی، ہاسٹل پالیسی میں غیر منصفانہ اقدامات اور فیسوں میں مسلسل اضافے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ اس موقع پر جمعیت کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ طلبہ کو درپیش مسائل فوری حل کیے جائیں، ہاسٹلز اور دیگر سہولیات میں بہتری لائی جائے، بلا جواز ڈگریاں منسوخ کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے، اور تعلیمی اخراجات میں کمی کی جائے۔







