جشن میلاد النبی ﷺ: تاریخ، جواز اور بدعت کے دعوے پر علما کا جواب

06 ستمبر, 2025 13:02

شیعیت نیوز : عید میلاد النبی وہ جشن ہے جو پیغمبر اکرمؐ کی ولادت کے دن منایا جاتا ہے۔ شیعہ اور اہل سنت پیغمبر اکرمؐ کی ولادت کے دن جشن مناتے ہیں لیکن وہابیت اسے بدعت سمجھتی ہے کیونکہ پیغمبرؐ اور صحابہ کے زمانے میں اس طرح کے جشن نہیں منائے جاتے تھے۔ مسلمان دانشمندوں نے وہابیوں کے جواب میں کہا ہے کہ اگرچہ عصر پیغمبرؐ و صحابہ میں جشن نہیں منایا گیا لیکن شریعت میں اس کی کوئی ممانعت بھی نہیں آئی ہے۔ لہٰذا جشن میلاد النبیؐ منانا نہ فقط بدعت نہیں ہے بلکہ پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ اظہارِ محبت کے عنوان سے ایک مطلوب عمل ہے۔ اس کے علاوہ جشن میلاد النبی کے جواز کو قرآنی آیات اور قرآنی مفاہیم سے بھی ثابت کیا گیا ہے، جن میں پیغمبر اکرمؐ کی تکریم اور ان سے محبت کا حکم دیا گیا ہے۔

چوتھی صدی ہجری سے مربوط تاریخی واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان پیغمبر اکرمؐ کی ولادت کے دن جشن منایا کرتے تھے۔ اسی طرح مکہ کے لوگ آپؐ کی ولادت کی سالگرہ کے موقع پر آپ کی جائے ولادت پر جمع ہو کر ذکر و دعا میں مشغول ہوتے اور آپؐ سے متبرک ہوتے تھے، یہاں تک کہ آل سعود کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد اس مکان کو مسمار کر دیا گیا۔

شیعہ حضرات 17 ربیع الاول اور اہل سنت حضرات 12 ربیع الاول کو پیغمبر اکرمؐ کا یومِ ولادت مانتے ہیں۔ علمائے شیعہ اس دن صدقہ دینا، کار خیر انجام دینا، مؤمنین کو خوش کرنا جیسے امور کو مستحب سمجھتے ہیں۔ اہل سنت بھی اس دن تحفے دینے اور فقرا کو کھانا کھلانے کی تاکید کرتے ہیں۔ لہٰذا دنیا کے مختلف ممالک میں اس دن میلاد پیغمبرؐ کے سلسلہ میں جشن منایا جاتا ہے۔ اسی دن ایران، افغانستان، عراق، ہندوستان، پاکستان اور مصر میں سرکاری تعطیل ہوتی ہے۔

اہمیت اور تاریخی حیثیت:

جشن میلاد النبی، پیغمبر اکرمؐ کی ولادت کے روز منعقد کیا جاتا ہے۔ جشن میلاد النبی کا جائز یا بدعت ہونا مسلمانوں اور وہابیوں کے درمیان اختلافی موضوع ہے۔ مسلمانوں کے مطابق جشن میلاد النبی کو برپا کرنا جائز ہے۔ اس اعتبار سے مختلف مسلم ممالک میں میلاد النبی کے دن جشن منایا جاتا ہے۔ اسی طرح پیغمبر اکرمؐ کی ولادت کے دن بعض ممالک ایران، ہندوستان، پاکستان، یمن، مصر وغیرہ میں سرکاری تعطیل ہوتی ہے۔ لیکن وہابی جشن میلاد النبی کو بدعت اور حرام سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس، علامہ حسن ظفر نقوی کا خطاب

آنحضرتؐ کے یومِ ولادت منانے کی تاریخ چوتھی اور پانچویں صدی ہجری کی ہے۔ نویں صدی کے تاریخ نگار احمد علی مقریزی کے مطابق جشن میلاد النبی کا رواج مصر کی حکومت فاطمیان میں سنہ 297۔567 ہجری قمری میں شروع ہوا۔ تاریخی مآخذ کے مطابق صلاح الدین ایوبی کا کمانڈر اور اربل کا حاکم مظفر الدین کوکبری متوفی 630 ہجری، ربیع الاول کے مہینہ میں جشن میلاد النبی برپا کیا کرتا تھا۔

جشن میلاد النبیؐ کے بدعت ہونے کا نظریہ:

وہابی جشن میلاد النبیؐ کو بدعت سمجھتے ہیں۔ وہابیوں کے مفتی عبدالعزیز بن باز نے جشن میلاد النبیؐ منانے کو بدعت شمار کیا ہے۔ سلفی علما ایسے جشن میں شرکت، وہاں بیٹھنے اور شیرینی کھانے کو حرام قرار دیتے ہیں۔ بعض سلفی مصنفین نے جشن میلاد النبیؐ کے منعقد کرنے والے کو فاسق و بے دین قرار دیا ہے۔ وہابیوں نے جشن میلاد النبیؐ کو بدعت قرار دینے کی دلیل یہ پیش کی ہے کہ یہ جشن پیغمبر اکرمؐ اور صحابہ کے زمانے میں نہیں منایا جاتا تھا۔

شیعہ اور اہل سنت علما کا جواب:

خالفین کے نظریہ کے مطابق اگرچہ میلاد النبیؐ کے سلسلہ میں شریعت کی طرف سے کچھ بھی بیان نہیں ہوا ہے لیکن آیاتِ قرآن سے یہ جشنِ مسرت تائید شدہ ہے۔ یہ لوگ قرآن کریم کے کلی مفاہیم جیسے رسول اللہؐ سے انس و محبت، ان کے اکرام و تکریم کو جشنِ میلاد کی مشروعیت پر بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ شیعہ عالم جعفر سبحانی کے مطابق جشن میلاد، پیغمبر اسلامؐ سے اظہارِ محبت کا ایک ذریعہ ہے جس کا حکم قرآن کریم نے دیا ہے۔

نیز سورہ مائدہ کی آخری آیات کے مطابق، عیسیٰ علیہ السلام نے اس دن کو جشن منایا جب آسمانی کھانا حواریوں پر نازل ہوا اور عیسائی اب بھی اس دن کو مناتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ نبیؐ کی سالگرہ منائی جانی چاہیے کیونکہ انہوں نے دنیا کو بت پرستی اور جہالت سے بچایا اور یہ نعمت حواریوں کے آسمانی مائدہ سے زیادہ ہے۔

عالم اہل سنت یوسف قرضاوی نے آیات قرآنی سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ جشن میلاد النبیؐ منانا جائز ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ میلاد النبی اور دیگر اسلامی تقریبات کے لئے جشن کا انعقاد درحقیقت ان نعمتوں کی یاد دہانی ہے جو خدا نے مسلمانوں کو عطا کی ہیں اور یہ یاد دہانی نہ صرف بدعت اور حرام نہیں ہے بلکہ مطلوب بھی ہے۔

ایک سنی عالم طاہر القادری کے مطابق کسی بھی جائز کام کو انجام دینے میں، جو شریعت میں منع نہیں ہے اور معاشرے کی ثقافت بن چکا ہے، اگر اس کا مقصد پیغمبر اسلامؐ کی ولادت کی خوشی کا اظہار ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میلاد خاتم الانبیاۖ کا جشن بھر پور طریقے سے منانے کے ساتھ ان کی تعلیمات کو مد نظر رکھا جائے, علامہ سید ساجد علی نقوی

نیز ایک روایت کے مطابق جو کتاب اقبال الاعمال میں نقل ہوئی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کی ولادت کے دن روزہ رکھنے کا ثواب ایک سال کے روزے کے برابر ہے۔ اسی طرح شیعہ علما صدقہ دینے، مقامات مقدسہ کی زیارت، نیک اعمال کی انجام دہی اور مؤمنین کو مسرور کرنے کو اس دن مستحب سمجھتے ہیں۔ شیعہ روایات میں میلاد النبیؐ کے دن ایک خاص نماز بھی وارد ہوئی ہے۔ اہل سنت نے اس دن پیغمبر اسلامؐ کے بارے میں تقاریر، قرآن کی تلاوت، سلامتی، تحائف دینے اور غریبوں کو کھانا کھلانے کی تاکید کی ہے۔

پیغمبر اکرمؐ کی ولادت کا زمان و مکان:

پیغمبر اکرمؐ کی روزِ ولادت کے سلسلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ شیعوں کے درمیان معروف تاریخ 17 ربیع الاول اور اہل سنت کے درمیان 12 ربیع الاول ہے۔ ان دو تاریخوں کے درمیان فاصلے کو ہفتۂ وحدت کہا جاتا ہے۔

پیغمبر اکرمؐ کی ولادت شعب ابی طالب کے ایک گھر میں ہوئی۔ عالم شافعی محمد بن عمر بحرَق متوفی 930 ہجری قمری کے مطابق اطراف مکہ کے لوگ میلاد پیغمبرؐ کے دن ان کے مکانِ ولادت پر آتے، ذکر و دعا کرتے اور اس مقام کو متبرک شمار کرتے تھے۔ گیارہویں صدی ہجری کے محدث علامہ مجلسی نقل کرتے ہیں کہ ان کے زمانے میں مکہ میں اس نام کی ایک جگہ تھی جہاں لوگ زیارت کرنے کے لئے آتے تھے۔ یہ مکان حکومت آل سعود کے زمانے تک باقی رہا، بعد میں مذہب وہابیت کے عقائد کی ترویج اور انبیا و صالحین سے توسل کی ممانعت کی وجہ سے مسمار کر دیا گیا۔

جشن میلاد النبی ﷺ کے جواز پر لکھی گئی مشہور کتابیں:

حمود احمد الزین کی کتاب البیان النبوی عن فضل الاحتفال بمولد النبوی عربی زبان میں لکھی گئی ہے، جس کا مقصد نبی اکرمؐ کی ولادت کے جشن کی شرعی حیثیت کو ثابت کرنا اور اس کے بارے میں شبہات کو دور کرنا ہے۔ اس کتاب میں مصنف اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سنی فقہاء اور محدثین نبیؐ کی ولادت کے جشن کو مستحب سمجھتے ہیں۔ یہ کتاب سنہ 1426 ہجری قمری میں دبئی کے انتشارات دار البحوث برائے مطالعاتِ اسلامیہ نے طبع کی۔

اسی طرح عبدالرحیم موسوی کی تصنیف جشن میلاد پیامبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فارسی میں جشن میلاد النبی کی مشروعیت کے موضوع پر لکھی گئی ہے، جس میں مخالفین کے نظریہ کو باطل کیا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق جشن میلاد کا انعقاد دراصل پیغمبر اکرمؐ کے احترام کا لازمہ ہے۔ یہ کتاب در حقیقت "در مکتب اہل بیت ع” کے مجموعہ کی ایک جلد ہے جو 57 صفحات پر مشتمل ہے اور مجمع جہانی اہل بیت ع کی طرف سے سنہ 1390 ش میں شائع ہوئی۔

10:31 شام اپریل 14, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔