کراچی پولیس اہلکار کی ٹارگٹ کلنگ میں کالعدم لشکر جھنگوی ملوث نکلی
بن قاسم پولیس کے ایس ایچ او خالد رفیق نے کہا کہ نامعلوم ملزمان کے خلاف دہشت گردی اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

شیعیت نیوز: کراچی میں پولیس نے بن قاسم کے علاقے میں ہونے والے ایک پولیس اہلکار کے ٹارگٹ کلنگ کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا۔
انسداد دہشت گردی محکمے (سی ٹی ڈی) نے اہلکار کے قتل اور کئی دیگر واقعات میں کالعدم لشکر جھنگوی کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے۔
واضح رہے کہ 27 اگست کو شاہ لطیف ٹاؤن پولیس میں تعینات 35 سالہ ہیڈ کانسٹیبل متھرو خان کو پپری کے قریب مسلح موٹر سائیکل سواروں نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا، بعد ازاں ایک غیر معروف گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئیے: سرگودھا میں کالعدم لشکر جھنگوی کے مولوی کے تشدد سے 14 سالہ طالب علم جاں بحق
یہ ملیر ضلع میں ٹارگٹ کلنگ کا دوسرا واقعہ ہے، اس سے قبل 18 اگست کو اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد خان ابڑو کو بھی مسلح موٹر سائیکل سواروں نے اس وقت گولی مار کر قتل کر دیا تھا جب وہ بن قاسم میں اپنے گھر کے باہر گاڑی سے اترے تھے۔
بن قاسم پولیس کے ایس ایچ او خالد رفیق نے کہا کہ نامعلوم ملزمان کے خلاف دہشت گردی اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
محممہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے سینئر افسر راجا عمر خطاب نے بتایا کہ انہیں شبہ ہے کہ پپری میں پولیس اہلکار کے قتل کے پیچھے کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی ) ملوث ہے۔