سینیٹ میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل پیش، اپوزیشن کا احتجاج اور ترامیم مسترد

19 اگست, 2025 13:35

شیعیت نیوز : ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی زیر صدارت اجلاس میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے انسدادِ دہشت گردی قانون 2025 میں ترمیم کا بل پیش کیا۔

اس موقع پر اپوزیشن نے احتجاج اور شور شرابہ کیا۔ جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بل پر ترامیم پیش کیں جنہیں ایوان نے مسترد کردیا۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ترامیم کے ساتھ اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کو بل بھجوانے کی تحریک بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم ترمیم کی مخالفت کر رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دہشت گردوں کے حامی ہیں۔ یہ بل کمیٹی میں بھیجا جاتا تو قیامت نہیں آجاتی۔ ان کے مطابق یہ ترمیم آرٹیکل 9 کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیصل سبزواری کی بات سے لگا کہ وہ بے بسی میں ووٹ دے رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر کے بعد دہشت گرد ناچتے ہوئے ان کے گاؤں گئے تھے۔ اس ترمیم کا اطلاق ہمارے خلاف ہوگا، لیکن ہم تاریخ کی درست سمت پر کھڑے ہیں۔

اس سے قبل ایم کیو ایم کے سینیٹر فیصل سبزواری نے سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس قانون میں ’’اسلامک ٹچ‘‘ نہیں دینا چاہتے۔ بدقسمتی سے ہم کمپرومائز کی وجہ سے دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔ جیل میں ڈالنا ہے تو ڈال دیں، لیکن لاپتا افراد کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ اختلافِ رائے پر کسی پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران اور پاکستان میں زرعی تعاون، 10 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کی جانب پیش رفت

انسداد دہشتگردی ترمیمی بل کے مندرجات

بل کے مطابق یہ ترمیمی قانون 3 سال کے لیے نافذ العمل ہوگا۔ اس دوران کسی بھی مشتبہ شخص کو 3 ماہ تک زیرِ حراست رکھا جا سکے گا۔ بل کے تحت سیکشن 11 فور ای کی ذیلی شق ایک میں ترمیم کر دی گئی ہے۔

ترمیم کے تحت مسلح افواج یا سول آرمڈ فورسز کسی بھی شخص کو حفاظتی حراست میں رکھنے کی مجاز ہوں گی۔ ملکی سلامتی، دفاع، امن و امان، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث کسی بھی شخص کو حراست میں رکھا جا سکے گا۔

متن کے مطابق مذکورہ جرائم میں ملوث شخص کی حراست کی مدت آرٹیکل 10 کے تحت بڑھائی جا سکے گی۔ زیرِ حراست شخص کے خلاف تحقیقات مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کرے گی۔

متن میں مزید کہا گیا ہے کہ متعلقہ تحقیقاتی ٹیم ایس پی رینک کے پولیس افسر، خفیہ ایجنسیوں، سول مسلح افواج، مسلح افواج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مشتمل ہوگی۔ تاہم ٹھوس شواہد کے بغیر کسی بھی شخص کو زیرِ حراست نہیں رکھا جا سکے گا۔

2:09 صبح اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔