چہلم امام حسینؑ میں عزاداری پر رکاوٹیں ناقابلِ قبول ہیں، علامہ عارف واحدی
شیعیت نیوز : شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے مرکزی جلوسِ چہلم امام حسینؑ میں شرکت کے موقع پر علامہ فرحت عباس جوادی، مولانا رضا محمد خان، مولانا قمر عباس جعفری، مولانا عبدالمجید اور علی عباس نقوی کے ہمراہ کمیٹی چوک پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام کا چہلم نہایت عقیدت، احترام اور مذہبی جذبے سے منایا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عزاداری سید الشہداؑ دینِ خدا کی بقا کی ضامن ہے، عزاداری میں رکاوٹیں ڈالنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ حسینؑ نکتۂ وحدتِ امت، مظلوم کی حمایت اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا نام ہے۔ چہلمِ امام حسین علیہ السلام میں صرف شیعہ شریک نہیں ہوتے بلکہ تمام مسالک اور مذاہب کے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ ان کی شرکت اتحاد بین المسلمین کی واضح مثال اور نواسۂ رسول اکرم ﷺ سے اظہارِ عشق ہے کیونکہ امام حسین علیہ السلام نے اسلامی اقدار کو زندہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : کربلا میں سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور آیت اللہ رضا رمضانی کی اہم ملاقات
علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے سکیورٹی کے انتظامات تسلی بخش ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے عزاداری سید الشہدا علیہ السلام میں رکاوٹیں ڈالنا کسی صورت قبول نہیں۔ دو روز قبل پنجاب حکومت سے بڑے تفصیلی مذاکرات ہوئے جن میں وزرا، ہوم سیکرٹری، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل آئی جیز اور دیگر اداروں کے سربراہان موجود تھے۔ تین گھنٹے کی میٹنگ میں مثبت گفتگو ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ عزاداری کسی کے خلاف نہیں، لہٰذا اس میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں بعض مقامات پر عزاداروں کی بلاوجہ اور خلاف آئین و قانون گرفتاریاں ہوئیں، جن میں سے کئی کو پنجاب انتظامیہ نے رہا کر دیا۔ تاہم، کل سے دوبارہ عزاداروں کی گرفتاریوں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں جو درست اقدام نہیں۔ اس سلسلے میں ابھی کچھ دیر پہلے ہوم سیکرٹری پنجاب سے رابطہ ہوا ہے، جنہوں نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ امید ہے کہ تمام مسائل خوش اسلوبی سے طے ہو جائیں گے۔
علامہ عارف واحدی نے آخر میں کہا کہ قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام ہے کہ عزادار پُرامن لوگ ہیں۔ ہم نے پاکستان میں اتحاد و وحدت کے فروغ کیلئے بنیادی کردار ادا کیا ہے اور یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ عزاداری میں کوئی رکاوٹ ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔







