پنجاب میں چہلمِ امام حسینؑ پر غیر قانونی پابندیاں قابلِ مذمت ہیں، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
شیعیت نیوز : سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پنجاب میں چہلمِ امام حسینؑ پر لگائی گئی غیر قانونی پابندیوں کے خلاف پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں اس وقت جو لاقانونیت ہے وہ ’’الامان و الحفیظ‘‘ ہے۔ ابھی چہلم آرہا ہے اور لوگوں کے گھروں میں ایس ایچ اوز اور پولیس والے جا کر بانیانِ جلوس و عزاء کو دھمکاتے ہیں کہ اگر سبیل لگائی تو تمہیں شیڈول فورتھ میں ڈالیں گے، ایف آئی آر کاٹیں گے اور جیل میں ڈال دیں گے۔ آئی جی، ڈی آئی جی، ایس پی اور ڈی ایس پی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ پاکستان بننے سے لے کر اب تک اہل تشیع دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران علامہ احمد اقبال رضوی، سید ناصر شیرازی سمیت دیگر علمائے کرام بھی موجود تھے۔ صحافیوں سے گفتگو میں سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، کوئٹہ اور کراچی میں شہداء سے قبرستان بھر گئے ہیں۔ ریاست خود مذہبی آزادی کے حق کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ تاریخِ بشریت میں کربلا جیسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ عزاداری ہماری عبادت اور آئینی و قانونی حق ہے لیکن نئی جگہ عزاداری کروانا مشکل بنا دیا گیا ہے، لوگوں کو شیڈول فورتھ میں ڈالا جا رہا ہے۔ گھروں میں ہونے والی مجالس سے ریاست کو کیا خطرہ ہے؟ خواتین کی مجالس پر ایف آئی آر کاٹی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں : علامہ ساجد علی نقوی کا یومِ آزادی پر عدل و انصاف اور قومی اتحاد پر زور
علامہ ناصر عباس نے کہا کہ بری امام کا عرس جاری ہے، پھر داتا دربار پر عرس ہوتا ہے اور لوگ میلوں پیدل جا کر مزارات پر پہنچتے ہیں، لیکن چہلمِ امام حسینؑ کے جلوسوں کے راستے سیکیورٹی کے نام پر کئی کلومیٹر تک بند کر دیے جاتے ہیں۔ ہمارے آئمہ نے چہلمِ امام حسینؑ میں پیدل چلنے کی تاکید کی ہے، لوگ دور دور سے جلوسِ عزاء میں شامل ہوتے ہیں، مگر پنجاب میں اس موقع پر پیدل جلوسوں میں شرکت پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔ عزاداری کے منتظمین کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، ایف آئی آر کاٹی جا رہی ہیں۔ شیڈول فورتھ دہشت گردوں کے لیے ہے مگر یہاں عزاداری کرنے والوں کو اس میں ڈالا جا رہا ہے۔ پنجاب میں اس وقت پولیس گردی عروج پر ہے، سبیلوں پر پابندی اور لوگوں کی نظر بندی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس متعصبانہ رویے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یومِ آزادی پر ہمیں گرفتاریوں کا تحفہ دیا جا رہا ہے۔ پہلے چند شدت پسند مکتبِ تشیع کے خلاف کارروائی کرتے تھے، اب حکومت بھی ان کے ساتھ شامل ہے۔ کیا پنجاب کوئی خصوصی صوبہ ہے جہاں الگ آئین و قانون ہے؟ ہمیں کوئی نہ بتائے کہ ہم اپنی عبادات کیسے کریں۔ اس ظلم و زیادتی کے خلاف ہم سخت احتجاج کرتے ہیں۔ ملک میں یومِ آزادی کی تقریبات پر میوزیکل کنسرٹ ہوتے ہیں لیکن چہلمِ امام حسینؑ پر پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔ باقی صوبوں کی نسبت پنجاب میں سب سے زیادہ مشکلات ہیں، مگر ہم چہلمِ امام حسینؑ بھرپور انداز میں منعقد کریں گے اور کسی پابندی کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔







