بائی روڈ زیارات پر پابندی ناقابلِ قبول، زائرین کا ملک گیر احتجاج
شیعیت نیوز : پاکستان بھر سے اربعینِ حسینی کے لیے عراق اور ایران جانے والے زائرین نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس فیصلے پر شدید احتجاج کیا ہے جس کے تحت بائے روڈ زیارات پر اچانک پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ زائرین نے متفقہ طور پر کہا ہے کہ یہ فیصلہ نہایت غلط وقت پر کیا گیا، کیونکہ اس وقت ہزاروں افراد مکمل تیاری کے ساتھ زیاراتِ مقدسہ کے لیے روانگی کے قریب تھے۔
زائرین کا کہنا ہے کہ ان کے ویزے لگ چکے تھے، ٹکٹس اور ہوٹلنگ بک ہو چکی تھی، اور لاکھوں روپے خرچ ہو چکے تھے۔ جب قافلے روانہ ہونے والے ہوں تو ایسے وقت میں راستے بند کرنا سراسر ظلم، زیادتی اور بددیانتی کے مترادف ہے۔ عوامی حلقے یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا سیکیورٹی صرف زائرین کے لیے مسئلہ ہے؟ باقی شعبوں میں تو تمام سروسز بحال ہیں، پھر زیارات کو ہی کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟
یہ بھی پڑھیں : بائے روڈ اربعین زیارات پر پابندی ناقابل قبول ہے: ناصر عباس شیرازی
احتجاجی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف ایک داخلی یا انتظامی معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے وہی عالمی استکباری ایجنڈا کارفرما ہے جسے امریکہ اور اسرائیل خطے میں اہل بیتؑ کے ماننے والوں کے اجتماعات سے خائف ہو کر ہمیشہ دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کربلا میں لاکھوں زائرین کی موجودگی ظلم کے خلاف عالمی شعور کی علامت بن چکی ہے، اور یہی چیز استعمار کے ایجنڈے سے متصادم ہے۔
مومنین کی بڑی تعداد اس فیصلے کو دینی جذبات کے قتل اور اہل بیتؑ سے وابستگی کو کمزور کرنے کی سازش قرار دے رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست کا کام سہولیات فراہم کرنا ہے، راستے بند کرنا نہیں۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ فلائٹس کے ساتھ ساتھ روڈ کی سیکیورٹی کو یقینی بناتی، لیکن اس کے برعکس، اس نے مذہبی فریضے کی ادائیگی کو روکنے کا قدم اٹھایا۔
زائرین اور دینی حلقوں نے حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے، زائرین کو ان کے مذہبی فرائض کی ادائیگی سے نہ روکا جائے، اور جن لوگوں کا مالی نقصان ہوا ہے، ان کی داد رسی کی جائے۔ بصورتِ دیگر، یہ احتجاج وسعت اختیار کر سکتا ہے، اور اس کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر عائد ہو گی۔







