امام زین العابدین ؑ نے دعا و کردار سے یزیدیت کو بے نقاب کیا، علامہ ساجد علی نقوی
شیعیت نیوز : علامہ سید ساجد علی نقوی نے امام چہارم حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے یومِ شہادت (25 محرم الحرام 95ھ) پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امامؑ نے اپنے کردار و عمل کے ذریعے یزیدیت کو بے نقاب کیا اور حسینیت کے خدوخال کو اس انداز میں واضح کیا جو باطل قوتوں کے خلاف جدوجہد کرنے والی ہر تحریک کے لیے رہنما حیثیت رکھتا ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ سید الساجدین علیہ السلام نے ولادت سے لے کر کربلا اور پھر کربلا سے لے کر آخری سانس تک انتہائی کٹھن اور سنگین حالات کو برداشت کر کے عالمِ انسانیت کے لیے صبر و استقامت کی ایسی بنیادیں فراہم کیں جن سے ہر دور کا انسان استفادہ کر رہا ہے اور حق پر قائم رہتے ہوئے مرنے کا حوصلہ پا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران مزاحمت کا قلعہ، امت مسلمہ متحد: پاکستانی علمائے کرام کی پانچویں آن لائن نشست
انہوں نے مزید کہا کہ امام زین العابدینؑ نے اذہان و قلوب کو جِلا بخشنے، باطن میں روشنی پیدا کرنے، نفسِ امّارہ کو شکست دینے اور خدا سے لو لگانے کے لیے دعاؤں کا جو ذخیرہ امت کو عطا کیا، اگر دورِ حاضر میں اس سے استفادہ کیا جائے تو دنیوی و اُخروی نجات کا سامان مہیا ہو سکتا ہے۔ اپنی مناجات میں امام زین العابدینؑ فرماتے ہیں: ”خدا کی بارگاہ میں دو قطروں کے علاوہ کوئی محبوب نہیں، ایک راہِ خدا میں گرنے والا شہید کے خون کا قطرہ اور دوسرا رات کی تاریکی میں خوف و تقربِ الٰہی کے لیے گرنے والا آنسو کا قطرہ“۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام چہارمؑ کو یہ امتیازی شرف حاصل ہے کہ انہوں نے دعاؤں اور مناجات کے ذریعے انسان کو براہ راست اپنے خالق سے مخاطب ہونے کا ہنر سکھایا، اور عبادات کے ذریعے نفس پر کنٹرول کرنے کی رسم ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ اگر آج ہم صحیفہ کاملہ کی شکل میں ان مناجات سے اپنی زندگیوں میں انقلاب برپا کریں تو ہمیں نہ صرف اپنے نفس پر قابو حاصل ہوگا بلکہ ہم انسانوں کے دلوں پر حکمرانی کے راز سے آشنا ہو جائیں گے۔ اس صبر و حکمت سے ہم دنیا کو موجودہ مسائل و مشکلات سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کر سکیں گے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ باطل قوتیں عالمِ اسلام کی دینی، علمی، ثقافتی، تہذیبی روایات اور آزادی و استقلال کو ختم کرنے اور وسائل کو تباہ کرنے کے درپے ہیں، لہٰذا اس سنگین دور میں امام سجادؑ کے عطا کردہ اصول اور اساسی نقوش سے استفادہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔







