ایران مزاحمت کا قلعہ، امت مسلمہ متحد: پاکستانی علمائے کرام کی پانچویں آن لائن نشست

21 جولائی, 2025 19:49

شیعیت نیوز : قادمون عالمی کونسل کے زیر اہتمام "امت واحدہ، محاذ برائے عزت اسلامی” کے عنوان سے پانچویں آن لائن نشست منعقد کی گئی، جس کا مرکزی موضوع رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران کی حمایت اور صہیونی حکومت و امریکہ کے جرائم پیشہ حکمرانوں کی دھمکیوں کو غیر مؤثر بنانا تھا۔ یہ نشست اردو زبان میں منعقد ہوئی اور اس میں پاکستان کے ممتاز اہل سنت علمائے کرام اور دانشوروں نے شرکت کی۔

نشست میں امت مسلمہ کے اتحاد، یکجہتی اور صہیونی حکومت کا مقابلہ کرنے کے لیے آمادگی پر زور دیا گیا۔ اس آن لائن کانفرنس میں پاکستان کے مختلف اسلامی مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات نے شرکت و خطاب کیا، جن میں درج ذیل علمائے کرام شامل تھے:

  • مولانا عبدالحق ہاشمی؛ نائب سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان اور امیر جماعت اسلامی بلوچستان

  • شیخ‌الحدیث مفتی محمد داوود؛ صدر متحدہ علمائے محاذ کراچی، شعبہ سندھ

  • مولانا منظر الحق تهانوی؛ نائب صدر متحدہ علمائے اسلام پاکستان

  • ڈاکٹر معراج الهدی صدیقی؛ سابق صدر جماعت اسلامی کراچی

  • مولانا محمد امین انصاری؛ سیکریٹری جنرل متحدہ علمائے محاذ پاکستان اور صدر علماء و مشائخ سندھ

  • عبدالخالق آفریدی سلفی؛ صدر متحدہ علماء محاذ پاکستان

  • مفتی حافظ عبدالمجید؛ صدر عالمی کونسل برائے اتحاد ادیان و مذاہب پاکستان

مقررین نے اپنے خطابات میں امریکہ اور صہیونی حکومت کی طرف سے مزاحمتی محاذ کو دی جانے والی دھمکیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران کی پالیسیوں کی بھرپور حمایت اور استکباری سازشوں کے خلاف امت مسلمہ کی بیداری کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں : غزہ جانے والی کشتی “حنظلہ” پر تخریب کاری کے حملے، مشن پھر بھی جاری

مولانا محمد امین انصاری نے دوٹوک الفاظ میں اسلامی جمہوری ایران اور مزاحمتی محاذ کی پرزور حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے متحدہ علماء محاذ پاکستان کے تمام ارکان کی جانب سے رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت‌الله سید علی خامنہ‌ای کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اسلامی جمہوری ایران کی حالیہ کامیابی پر مبارکباد دی۔

مولانا انصاری نے کہا کہ ایران کا جرات مندانہ اقدام فلسطین، لبنان، شام اور پوری مزاحمتی تحریک کو نئی توانائی دے رہا ہے۔ دشمن کی جانب سے ایران پر حملے کی وجہ صرف فلسطینی عوام کی حمایت ہے۔ ایران ایٹمی ہتھیاروں کا نہیں بلکہ ایٹمی توانائی کا حق رکھتا ہے۔

مولانا عبدالحق ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آیت‌الله خامنہ‌ای اس وقت امت اسلامی کے اتحاد اور مزاحمت کا محور و مرکز ہیں۔ ہمیں فقہی اختلافات کو علمی دائرے میں رکھ کر اسلامی مشترکات پر توجہ دینی چاہیے۔

مفتی محمد داوود نے کہا کہ مسلمانوں کو مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے ایران کے ردعمل کو پاکستان کی فوجی جرات سے تشبیہ دی اور کہا کہ ایرانی قیادت نے غزہ، لبنان اور کشمیر کے مسلمانوں کو نیا حوصلہ دیا ہے۔

علامہ سید سجاد شبیر رضوی نے کہا کہ ایران نے الٰہی نصرت سے ثابت کیا کہ ایمان کے ساتھ دشمنوں پر غالب آنا ممکن ہے۔ بارہ دن کی جنگ میں اسلامی اتحاد ایک درخشاں مثال بن کر ابھرا۔

مفتی حافظ عبدالمجید نے اسلامی دنیا کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف ایران نے عملی میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام مکاتب فکر ایران کے مؤثر کردار کی تعریف کر رہے ہیں۔

مولانا عبدالخالق آفریدی سلفی نے کہا کہ امت مسلمہ متحد ہوچکی ہے اور ایران نے فیصلہ کن جواب دے کر دشمنوں کو پیغام دیا ہے کہ ظلم کے خلاف مزاحمت جاری رہے گی۔

انہوں نے شیعہ اور سنی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمن چاہتا ہے کہ ہم اندر سے کمزور ہو جائیں، لیکن الحمدللہ امت متحد ہے۔

5:30 شام اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔