انجمن امامیہ سکردو کا ہنگامی اجلاس، لینڈ ریفارمز ایکٹ پر گہری تشویش کا اظہار
شیعیت نیوز : انجمن امامیہ بلتستان سب ڈویژن گمبہ سکردو کا ایک اہم مشترکہ مشاورتی اجلاس سید احمد شاہ الحسینی امام جامعہ و الجماعت گمبہ سکردو کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
جس میں سب ڈویژن گمبہ سکردو کے علماء کرام و عمائدین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
اجلاس میں لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025ء کا بغور جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایم ڈبلیو ایم وفد کی سندھ پولیس فائرنگ سے ہوئے شہداء کے گھر آمد، اظہار تعزیت
وکلاء نے اجلاس کو بل کے حوالے سے تمام نکات پر سیر حاصل گفتگو کے بعد مندرجہ ذیل اعلامیہ جاری کیا:
1۔ انجمن امامیہ سب ڈویژن گمبہ سکردو لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025ء کے حوالے سے روز اول سے ہی یہ موقف رکھتی ہے کہ گلگت بلتستان کی زمینیں، قدرتی وسائل، پہاڑ کی چوٹی سے دریا کے کنارے تک عوام کی ملکیت ہیں اور ہر موضع میں تمام شرعی و رواجِی قوانین واجب الارض نافذ العمل ہیں۔
2۔ لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025ء کی شق نمبر (x) "گورنمنٹ لینڈ” کی تعریف کے مطابق اب تک کی جانے والی تمام الاٹمنٹس اور غیر قانونی قبضے کو نہ صرف قانونی شکل دی گئی بلکہ الاٹ شدہ اراضی کو بھی مخفی رکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس ایکٹ کی اصل روح مجروح ہوچکی ہے اور گلگت بلتستان کے عوام ہزاروں کنال زمین سے محروم ہوچکے ہیں۔ اس بل کی شق نمبر 4، 7، 12 کے تحت ڈی سی/کلکٹر کو لامتناہی اختیارات دیئے گئے ہیں، جو کہ بیوروکریسی کو وائسرائے بنانے کے مترادف ہے۔
3۔ علاوہ ازیں، عجلت میں پیش کیے جانے والے اس لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025ء میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، جو کہ قابلِ تشویش ہے۔
4۔ تمام شقوں کے مطالعے سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ عوامی نمائندوں کے مقابلے میں بیوروکریسی کو طاقتور بنا دیا گیا ہے۔
5۔ باب(x) شق نمبر 17 کے تحت انتظامی افسران کے فیصلوں کے خلاف مجاز عدالتوں کے دروازے بھی بند کر دیئے گئے ہیں اور عوامی نمائندوں کا کردار علامتی بن گیا ہے۔
6 اس ایکٹ کے سیکشن 9 میں ویلیج ویریفکیشن کمیٹی کا کردار بھی نمائشی ہے۔
7 اس ایکٹ کے تحت دی جانے والی سند ملکیت میں مخفی شرائط و ضوابط اس پورے ایکٹ کو مشکوک بنا دیتے ہیں۔
8۔ اس کے علاوہ بہت ساری شقیں عوامی مفادات سے متصادم ہیں۔
9۔ یہ اجلاس متفقہ طور پر لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025ء پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کرتا ہے۔
10۔ لہذا، گورنر گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس بل پر دستخط کرنے کی بجائے اسے گلگت بلتستان اسمبلی واپس بھیجا جائے، تاکہ اس ایکٹ میں موجود عوامی مفادات سے متصادم شقوں میں ترمیم کی جا سکے اور عوامی مفادات کا تحفظ ممکن ہوسکے۔ بصورت دیگر، لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025ء کے خلاف شدید عوامی تحریک کا آغاز ہوگا۔







