پارہ چنار میں انسانی المیہ!29 بچوں کی اموات ،کفن کم پڑگئے

28 دسمبر, 2024 17:29

شیعیت نیوز:خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں‌راستوں کی بندش کے باعث بروقت علاج نہ ملنےکی وجہ سے29 بچےجاں‌بحق ہوگئے۔

پشاور پاراچنار مرکزی شاہراہ سمیت آمدورفت کے تمام راستے تاحال بند ہیں جس کی وجہ سے علاج معالجے کی سہولیات نہ ملنے کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

‎ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاراچنار ڈاکٹر سید میر حسن جان کے مطابق یکم اکتوبر سے اب تک پاراچنار ہسپتال میں علاج نہ ملنے اور سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے 29 بچے دم توڑ گئے ہیں۔

ڈاکٹر سید میرحسن جان نے ادویات اور اپریشن کی سہولیات نہ ہونے دیگر اموات کی تعداد نہیں بتائی ۔

تاہم ان کا کہنا تھاکہ ادویات اور علاج معالجے سمیت اپریشن کی سہولیات نہ ہونے سے دیگر افراد بھی جاں بحق ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئیے: پارہ چنار کے مظلوم مومنین کی حمایت میں شکار پور مین شاہراہ سندھ بلوچستان پر احتجاجی دھرنا

ایم ایس کا کہنا تھاکہ اگر ہنگامی بنیادوں پر ہسپتال کے لیے ادویات اور دیگر سہولیات فراہم نہ کی گئی تو بحرانی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔

کرم میں قیام امن کیلئے کوہاٹ میں جاری گرینڈ امن جرگہ زیادہ تر نکات پر اتفاق رائے کے باوجود کسی بھی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکا جبکہ مذاکرات کا عمل جاری ہے۔

ٹل پاراچنار مرکزی شاہراہ سمیت متعدد راستے آمد و رفت کیلئے بند ہونے سے پاراچنار شہر سمیت اپر کرم کو ہر قسم کی سپلائی معطل ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اشیائے ضروریہ نہ ملنے کی وجہ سے انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔

شہری فاقوں پر مجبور ہیں۔ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ، ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور کاروباری مراکز پچھلے3 ہفتوں سے بند ہیں۔

مردہ خانہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اموات کے باعث پاراچنار میں کفن ختم ہوگئے ہیں۔

بارڈر سیکیورٹی حکام کے مطابق پاک افغان خرلاچی بارڈر بھی ہر قسم تجارت و آمد و رفت کیلئے بند ہے۔

7:01 شام اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔