مذاکرات کیلئے حکومت کو پہلا قدم اٹھانا چاہیے تھا، رکن مزاکرات کمیٹی سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی میڈیا سے گفتگو
شیعیت نیوز:مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں بھی اسٹیبلشمنٹ کی مدد حاصل ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا پورا رول ہے، سب کو پاکستان کا سوچنا چاہیئے۔
علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ بانئ پی ٹی آئی آئین اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، وہ کبھی نہیں کہے گا کہ مجھے رہا کرو۔
یہ بھی پڑھئیے: علامہ راجہ ناصر کا سینیٹ میں دبنگ خطاب:وزیر داخلہ سے جواب طلبی اور سینیٹرز سے صدائے احتجاج بلند کرنے کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس آخری موقع ہے، حالات ٹھیک کریں، مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے تو معلوم ہوگا کہ حکومت کی نیت کیا ہے۔
حکومتی کمیٹی میں نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار، عرفان صدیقی، رانا ثناء اللّٰہ، نوید قمر، راجہ پرویز اشرف، فاروق ستار موجود تھے۔
مذاکرات میں اپوزیشن کے اسد قیصر، حامد رضا اور علامہ ناصر عباس موجود تھے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کا مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہوگیا۔
اگلے دور میں مطالبات پیش کیے جائیں گے پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کے رکن سینیٹرعلامہ راجہ ناصر عباس نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کی میز پر ہی مسائل کو حل کیا جاتا ہے، ملک اس وقت مسائل میں گھرا ہوا ہے۔
مذاکرات کے لیے حکومت کو پہلا قدم اٹھانا چاہیے تھا لیکن بانی پی ٹی آئی کا یہ پہلا قدم اٹھانا ان کے محب وطن ہونے کی دلیل ہے۔







