سانحہ عباس ٹاون کا مرکزی ملزم اور 60مومنین کا قاتل، کالعدم لشکر جھنگوی کا تکفیری دہشت گردعمر فاروق11سال بعد ہلاک

24 جولائی, 2024 17:21

شیعیت نیوز:سانحہ عباس ٹاون میں ملوث دہشت گردعمر فاروق11سال بعد ہلاک ہوگیا۔

کراچی کی تاریخ کے بدترین سانحہ عباس ٹاؤن کو 11برس بیت چکے ہیں ، 3مارچ 2013 کا سورج شہر قائد میں قیامت برپا کرکے غروب ہوا تھا۔ اس افسوس ناک سانحے میں60 سے زائد مومنین شہید جبکہ کئی درجن شدید زخمی ہوئے ، اقراءسٹی ، رابعہ سٹی کے متعدد فلیٹس ، دکانیں مکمل تباہ وبرباد ہوئیں تھیں۔

 ناردرن بائی پاس پر سی ٹی ڈی سول کی کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں کراچی پولیس آفس پر حملے کا ماسٹر مائنڈ ہلاک ہوگیا جس کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے تھا۔

تفصیلات کے مطابق سی ٹی ڈی سول لائن کی ٹیم نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب موچکو تھانے کی حدود ناردرن بائی پاس حنفیہ مسجد کے قریب دہشت گردوں کی اطلاع پر چھاپہ مار کارروائی کی۔

یہ بھی پڑھیں: تین (3)مارچ سانحہ عباس ٹاون کی یاد آج بھی اہلیان کراچی کے دل دہلادیتی ہے

دہشت گرد عمر فاروق نے عباس ٹاؤن دھماکے میں ریموٹ کا بٹن دبایا تھا، دہشت گرد عمر فاروق کی مزید تفصیلات سی ٹی ڈی نے جاری کی ہیں جس کے مطابق ہلاک دہشت گرد کراچی پولیس آفس کا ماسٹر مائنڈ اور اشتہاری تھا جبکہ دہشت گرد 2013ء میں عباس ٹاؤن بم دھماکے کا بھی مرکزی ملزم تھا۔

ہلاک دہشت گرد کے خلاف 2013ء سے 2014ء تک 10 مقدمات مختلف تھانوں میں درج کیے گئے جبکہ 2014ء میں 10 مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل گیا تھا، پھر بری ہونے کے بعد افغانستان چلا گیا تھا۔

ملزم پر مبینہ ٹاؤن، سچل، سی ٹی ڈی، اتحاد ٹاؤن، سرجانی ٹاؤن اور گلشن معمار میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ عباس ٹاؤن کراچی میں بارود سے بھری گاڑی کو اقراءسٹی کے مین گیٹ کے سامنے ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا جس کے بعد چاروں طرف تباہی اور قیامت صغریٰ کے مناظردیکھے گئے۔

دھماکے کے مقام پر نصب پی ایم ٹی بم دھماکے کی شدت اور بارودی مواد کے باعث پرروز دھماکے سے پھٹ گئی جس نے مزید تباہی کا سامان کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: سانحہ عباس ٹاون و شکارپور میں مطلوب انتہائی خطرناک تکفیری دہشتگرد گرفتار

دھماکہ اتنا شدید تھا کہ چاروں طرف آگ ہی آگ تھی اطراف میں موجود فلیٹوں کی نچلی اور بالائی تمام منزلیں آگ کے شعلوں میں گھری ہوئی تھیں ، فلیٹوں کے نیچے موجود دکانیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی تھیں جن میں موجود مالکان اور خریداروں کی لاشیں پھنسی ہوئی تھیں ۔

تمام شہداءکی نماز جنازہ میں عوام نے شرکت نے ماضی کے تمام ریکارڈز توڑ ڈالے تھے، اتنی بڑی تعداد میں شیعہ سنی عوام کا اس اجتماع میں شریک ہونا اس سانحے میں ملوث تکفیری دہشتگردعناصر کے منہ پر تماچہ تھا۔

7:17 صبح مارچ 8, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top