تین (3)مارچ سانحہ عباس ٹاون کی یاد آج بھی اہلیان کراچی کے دل دہلادیتی ہے
شیعیت نیوز: کراچی کی تاریخ کا بڑا سیاہ دن سانحہ عباس ٹاون کو آج 6 سال بیت گئے ہیں، تاہم متاثرین اور اہلیاں کراچی ابھی تک اس منظر کو نا بھولا سکے، ۳ مارچ ۲۰۱۳ قیامت کے دن سے کم نا تھا جب ملک دشمن کالعدم مذہبی دہشتگردوں نےبارود سے بھر ی کار کو عباس ٹاون کے رش بھرے علاقہ میں کھڑی کر دھماکہ خیز مواد سے اُڑا ڈالی، بارود کے پھٹنے سے سیکڑوں شیعہ و سنی مسلمان شہید ہوئے جبکہ کئی بچے ،جوان، بزرگ و خواتین اپاہیج ہوگئیں، کئی خاندان برباد ہوگئے، لوگوں کے بنے بنائے آشیانہ سیکنڈوں میں مذہبی دہشتگردوں کے شدت پسند نظریات کی بھیٹ چڑھ گئے۔
متاثرین سانحہ عباس ٹاون ابھی تک اس منظر کا نہیں بھول پائے ان کا کہنا ہے کہ اس سانحہ نے ہماری دنیا ہی اُجاڑ دی تھی، لیکن حق کے راستہ میں جان و مال قربان کرنے کا درس ہمیں کربلا والوں نے دیا ہے، لہذا یہ مشکلات برداشت کرکے شاید ہم امام کے قریب ہوجائیں، کچھ نے کہا کہ دھماکہ کرنے والے کہاں ہیں کوئی نہیں جانتا، لیکن اس سانحہ کے شہداٗ کی یاد ابھی بھی زندہ ہےدنیا ان شہداٗ کو یاد کرتی ہے ہر سال ان کی یاد میں اجلاس منعقد کیئے جاتے ہیںاور یقیناً یزیدیت کو مٹنا ہے اور حسینیت کو ہمیشہ زندہ رہنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس سانحہ میں ملوث دہشتگردوں میں سے کچھ کو گرفتار کرلیا گیا تھا، کاؤنٹر ٹیرریزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مطلوب تکفیری دہشتگرد محمد انور عرف مولوی عبداللہ کو ساتھیوں سمیت گرفتار کیا تھا،اس دہشتگرد کے سر کی قیمت 25 لاکھ مقرر کی گئی تھی، تاہم اس گرفتاری کے بعد عدالت نظام سے اسےسزا ملی یا نہیں اس حوالے سے کوئی اطلاعات چھ سال بعد بھی پوشیدہ ہیں۔







