اقوام متحدہ کا دنیا میں پانی کی قلت کے بحران پر انتباہ
شیعیت نیوز: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے پانی کی قلت موجودہ صورت حال پر خبردار کرتے ہوئے تمام ملکوں سے مشترکہ انتظامات سے متعلق ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوترش نے نیویارک میں پانی کی قلت سے متعلق منعقدہ اجلاس میں کہا ہے کہ پانی کے بے تحاشہ اور نادرست استعمال کی بنا پر انسانی حیات کے لئے خطرہ پیدا ہو رہا ہے اور کرہ ارض کی گرمی کی بدولت پانی کی بڑی مقدار بخارات میں تبدیل ہو رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی پینے کے پانی تک دسترسی نہیں رکھتی اور اس آبادی میں سے نصف آبادی تو صاف پانی کے مراکز تک سے محروم ہے جبکہ تقریبا تین چوتھائی المیے پانی سے ہی متعلق ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوترش نے پانی کو انسانی سرچشمہ حیات قرار دیتے ہوئے اس ذریعہ حیات تک انسان کی دسترسی اور اس سلسلے میں صحیح مشترکہ منصوبہ بندی اور ایک دوسرے کے ساتھ تمام ملکوں کے تعاون کی اپیل کی۔
اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسیف اور عالمی ادارہ صحت نے اپنے مشترکہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ دنیا کے دو ارب لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : چین لبنان کی مدد کے لیے تیار ہے، اسرائیل بحران کا شکار ہے، سید حسن نصر اللہ
وسری جانب امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ایمرجنسی امور کے دفتر کی ترجمان نے ریاست میں آنے والے طوفان میں پانچ افراد کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ایمرجنسی امور کے دفتر کی ترجمان ڈیانا کرافٹز پلایو نے اعلان کیا ہے کہ کیلی فورنیا کے سمندر میں آنے والے طوفان کے نتیجے میں درخت اکھڑ گئے، بجلی کے کھمبے گر گئے اور نتیجے میں اس ریاست میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے جبکہ سن فرانسیسکو میں دو، آکلینڈ میں ایک، کنترا اور کوستا و سن میتھیؤ میں ایک ایک ہلاکت ملا کر مجموعی طور پر اب تک بیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مختلف علاقوں میں بجلی منقطع ہو گئی اور ہزاروں افراد محفوظ علاقوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔
اس ترجمان نے کہا کہ طوفان کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے بعد ماحولیات سے متعلق مسائل بھی پیدا ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ ایک ایسا ملک ہے جہاں حالیہ برسوں کے دوران مسلسل تیز بارش و آندھی و طوفان اور سیلاب جیسے قدرتی آفات و حادثات جنم لیتے رہے ہیں۔







