مقبوضہ فلسطین

اسرائیلی جیل سے رہائی پانے والا فلسطینی راشد دراغمہ عباس ملیشیا کے ہاتھوں گرفتار

شیعیت نیوز: کل منگل کے روز فلسطینی اتھارٹی کی انٹیلی جنس سروس نے اسرائیلی جیل سے رہائی پانے والے 24 سالہ جوان محمد ہیثم راشد دراغمہ کو شمالی مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے طوباس میں اس کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا۔

مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ انٹیلی جنس حکام کے اہلکاروں نے اس وقت فائرنگ کی جب وہ دراغمہ کو گرفتار کرنے کے لیے گھر پر دھاوا بولے۔

زیر حراست شخص کے بھائی عبیدہ دراغمہ نے کہا کہ ’’انٹیلی جنس سروس کے ارکان پر مشتمل ایک سکیورٹی گروپ نے ہمارے گھر پر چھاپہ مارا اور اس گھر کے صحن میں فائرنگ کی جہاں میرا بھائی تھا۔‘‘

راشد دراغمہ نے مزید کہا کہ ’’ہم حیران رہ گئے جب انہوں نے گھر پر دھاوا بول دیا اور بغیر وارننگ کے گولی چلا دی۔ ایسا کچھ نہیں ہوا جس کی وجہ سے عباس ملیشیا نے ہمارے بھائی کو گرفتار کرلیا۔‘‘

عبیدہ دراغمہ نے کہا کہ قابض عباس ملیشیا نے میرے بھائی کو یہ جانتے ہوئے گرفتار کیا کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں دو بار قید کاٹ چکا ہے۔ دوسری بار وہ چند ہفتے قبل ہی اسرائیلی عقوبت خانوں سے رہا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی پارلیمنٹ کنسٹ کی جانب سے انخلاء کا بل منسوخ، حماس کا شدید ردعمل

دوسری جانب صیہونی افواج نے منگل کے روز مقبوضہ شہر بیت المقدس میں ایک فلسطینی شہری کا مکان مسمار کر دیا۔ یہ مکان ایک ایسےوقت میں مسمار کیا گیا ہے جب دوسری طرف القدس سے فلسطینی باشندوں کی جبری بے دخلی کی صہیونی پالیسی پرعمل جاری ہے۔

یروشلم کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ صیہونی افواج نے بلڈوزر اور انجینیرنگ گاڑیوں کے ہمراہ مقبوضہ بیت المقدس کے قصبے ام طوبیٰ پر دھاوا بولا اور محمد ابو طیر اور ان کی بہن کے مکان کو مسمار کرنے کا حکم دیتے ہوئے بھاری مشینری کی مدد سے مکان مسمار کردیا۔

صیہونی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مکان اسرائیلی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر تعمیر کیا گیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ صیہونی فوج نے محمد ابراہیم ابو طیر اور ان کی بہن کے دو اپارٹمنٹس پر مشتمل مکان کو مسمار کردیا۔

شہری سامی ابو طیر نے کہا دونوں اپارٹمنٹس دو سال قبل بنائے گئے تھے اور ان میں 12 افراد رہائش پذیر تھے۔ ہر اپارٹمنٹ کا رقبہ 90 مربع میٹر ہے۔

اسرائیلی حکام نے بیت المقدس کی ایک سرکردہ خاتون رہنما فاطمہ سالم کو الشیخ جراح محلے میں ان کے گھر کے ایک کمرے کو منہدم کرنے کا فیصلہ بھی سونپا۔

خیال رہے کہ فاطمہ سالم کو بیت المقدس سے بےدخل کیے جانے کا خطرہ ہے۔ وہ مسجد اقصیٰ کی مستقل نمازی ہیں اور اسرائیلی حکام انہیں مسجد اقصیٰ سے دورکرنا چاہتے ہیں۔

صیہونی فورسز نے سالم کے گھر کی مسماری کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے اسے خود گرانے کے لیے 21 دن کی مہلت دی ہے بصورت دیگر اسرائیلی فورسز اسے مسمار کر دیں گی۔

متعلقہ مضامین

Back to top button