امت اسلامیہ کے اختلافات سے صرف صیہونی حکومت ہی فائدہ اُٹھاتی ہے، حازم قاسم
شیعیت نیوز : گذشتہ شب فلسطین کی مقاومتی تحریک حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان سیاسی تعلقات کی بحالی کے معاہدے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے پر صیہونی غم و غصہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل وہ واحد فریق ہے، جو مسلمانوں کے درمیان اختلافات سے فائدہ اُٹھاتا ہے اور ان اختلافات کو ہوا دیتا ہے۔
حازم قاسم نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ امت کو صرف صیہونیوں کو اپنا دشمن ڈکلئیر کرنا چاہیئے، کیونکہ اسرائیل کی جارحانہ اور تسلط پسند پالیسیاں خطے کی اقوام کے مفاد کے خلاف ہیں۔ اس بنا پر اس حکومت کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے ملی استحکام اور مفاد کے تحفظ کی خاطر ایک جامع قومی تحرک واجب اور ضروری امر ہے۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی کے معاہدے کے بعد اسرائیلی قابض ریاست کے سیاسی اور سکیورٹی حلقوں کی طرف سے جس غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ سعودیہ اور ایران کے درمیان اختلافات کا فائدہ صرف صہیونی ریاست کو پہنچ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی عدالت کی قیدی احمد منصرہ کی قید تنہائی میں توسیع
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی ریاست کو قوم کا واحد دشمن ہی رہنا چاہیے کیونکہ اس کی جارحانہ اور توسیع پسندانہ پالیسی اسے خطے کے عوام کے مفادات کے لیے مستقل خطرہ بناتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قوم کی تمام زندہ قوتوں سے متحد انداز میں قابض صہیونی ریاست کا مقابلہ کرنا اور اپنے اعلیٰ مفادات اور اپنی قومی سلامتی کے حصول کا فرض ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے کا تمام ممالک نے خیر مقدم کیا ہے جبکہ صرف اور صرف قابض صیہونی حکومت کو اس معاہدے پر تشویش ہے۔
یاد رہے کہ تہران اور ریاض کے درمیان دس مارچ کو کئی مہینوں کے مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ طے پایا، جس کی رو سے دونوں ممالک نے نئے سرے سے اپنے تعلقات شروع کرنے اور اپنے اپنے سفارت خانوں کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا۔







