مذاکرات ناکام ہوئے تو فیصلہ کن جنگ شروع کردیں گے، انصار اللہ کا دو ٹوک موقف
شیعیت نیوز: انصار اللہ یمن کے سیاسی بیورو کے رکن نے سعودی قیادت والے اتحاد کو خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی مذاکرات ناکام ہوئے تو یمن پر جارحیت اور ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن جنگ شروع ہو جائے گی۔
مہر خبررساں ایجنسی نے المیادین کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انصار اللہ یمن کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے کہا ہے کہ اگر ریاض کے ساتھ موجودہ مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوئے تو انصار اللہ یمن پر سعودی جارح اتحاد کی جارحیت اور سمندری، زمینی اور ہوائی گزرگاہوں کی ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن جنگ میں داخل ہوجائے گی۔
المیادین ٹی وی کے مطابق، انصار اللہ یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے رکن محمد البخیتی نے کہا کہ ممکن ہے مذاکرات کامیاب نہ ہوں اور ہم لامحالہ جارحیت کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن جنگ میں داخل ہوجائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب کے القطیف کے علاقے ایک اور نوجوان حیدر ناصر آل تحیفہ کو پھانسی کی سزا
رپورٹ کے مطابق یمنی عہدیدار نے سعودی اتحاد کے لیے لڑنے والے یمنیوں کو مشورہ دیا کہ وہ انصار اللہ کی افواج میں شامل ہوجائیں تاکہ وہ جلد از جلد لڑائی کو فیصلہ کن بنا سکیں۔
انہوں نے یمن کے بعض صوبوں میں امریکی اور برطانوی افواج کی موجودگی کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ امریکی فوجیوں کی موجودگی سعودی عرب کی قیادت میں لڑنے والے اتحاد کی حمایت اور اس کی کارروائیوں کا تسلسل ہے جبکہ اس اتحاد کی جارحیت کی حقیقت سب پر عیاں ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکہ اور برطانیہ کی حمایت اور متحدہ عرب امارات سمیت بعض ملکوں کے ساتھ اتحاد تشکیل دے کر یمن کو دو ہزار پندرہ سے وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے اور یمنی عوام کے لئے مسائل پیدا کرنے کے لئے اس ملک کا مکمل محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔
چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ کو جارح سعودی اتحاد نے یمن پر جارحیت شروع کی اور اس وقت سے اب تک ہزاروں یمنی عام شہری شہید وزخمی ہو چکے ہیں جن میں تین ہزار سات سو بیالیس بچے بھی شہید اور تین ہزار نو سو بیانوے دیگر بچے زخمی ہوئے ہیں۔







