یوکرین جنگ میں روسی جنگی حکمت عملی تبدیل

شیعیت نیوز: مشرقی یوکرین کے شہر ڈونیٹسک کے اسٹریٹیجک شہر ’’باخموت‘‘ کے نواحی علاقوں میں لڑائی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور ماسکو اس پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔
دریں اثنا، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے مشرقی علاقوں میں ملک کے اگلے اور دفاعی لائنوں میں میدان میں مشکل صورت حال کے بارے میں خبردار کیا۔
اس علاقے سے موصول ہونے والی رپورٹس اور ساتھ ہی کیف کا اعتراف، روس کی فوجی پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے، خاص طور پر مشرقی اور شمالی حصوں میں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روسی افواج کے حملوں میں شدت آنے سے مشرقی یوکرین میں اگلے مورچوں پر صورت حال مزید مشکل ہو جائے گی۔
زیلنسکی نے کہا کہ ہمارے ملک کے مشرقی محاذ پر جارحانہ اور پورے پیمانے پر قبضے کی کارروائیوں میں اضافے کے ساتھ، صورت حال مزید مشکل ہو گئی ہے۔ روسی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ایسی کامیابیاں حاصل کریں جن پر وہ آغاز کی پہلی سالگرہ پر فخر کر سکیں۔
یوکرین کی وزارت دفاع نے تزویراتی اہمیت کے حامل شہر ’’لیمان‘‘ میں یوکرین کی دفاعی لائنوں کو توڑنے کی روسی افواج کی کوشش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھاری نقصانات اٹھانے کے باوجود روسی حملہ آوروں نے باخموت، ایودیکا اور نووپاولوکا میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اسی دوران روس کی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ اس ملک کی افواج نے اہم مقامات پر قبضہ کر لیا ہے اور ڈونیٹسک میں یوکرائنی افواج کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے گودام کو تباہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : صیہونی حکومت کی فوڈ فیکٹری میں آگ لگ گئی
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پوتین نے کہا ہے کہ ان کا ملک غیر دوستانہ اقدامات کا سخت جواب دے گا۔
اسٹالن گراڈ کی جنگ میں سوویت یونین کی فتح کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتین نے کہا کہ نیو نازی ازم نئے روپ میں روس کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔
انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ روس کو ایک بار پھر مغربی طاقتوں کے خلاف ڈٹ جانا ہوگا۔
صدر پوتین نے کہا کہ یقین نہیں آتا لیکن حقیقت یہی ہے کہ آج ایک بار پھر ہمیں جرمن ٹینکوں سے دھمکایا جارہا ہے جن پر صلیب کا نقش کندہ ہے۔
روسی صدر نے خبردار کیا کہ جو لوگ جرمنی کو ایک نئی جنگ میں گھسیٹنا چاہتے ہیں انہیں جان لینا چاہیے کہ موجودہ جنگ ماضی سے کہیں زیادہ مختلف ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ روس سرحدوں پر ٹینک نہیں بھیجے گا کیوں کہ ہمارے پاس جوابی اقدامات کے لیے دوسرے ہتھیار موجود ہیں۔