وطن عزیز کسی قسم کی متنازعہ، فرقہ وارانہ، متعصبانہ اور اشتعال انگیز قانون سازی کا متحمل نہیں،علامہ رمضان توقیر
شیعیت نیوز:شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب علامہ محمد رمضان توقیر نے کوٹلی امام حسینؑ میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ توہین رسالت، توہین اہل بیتؑ، توہین صحابہ اور شریعت بل کے حوالے سے قانون سازی آئین پاکستان میں موجود ہے، مزید متنازعہ قانونی ترمیمی بل 2021 298/A کی آئین پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں۔ اس بل کو غیر آئینی اور بوگس طریقے سے پاس کیا گیا۔اجلاس کا کورم ہی پورا نہیں تھا، محض 25، 30 متعصب ممبران کی موجودگی میں پاس کیا گیا۔ ملت تشیع پاکستان اس قانون سازی بل کو کسی صورت تسلیم نہیں کرتی ہے، اس سے پہلے ملت تشیع کو اعتماد میں لیا جائے۔ علامہ محمد رمضان توقیر نے اپنے خطاب میں تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا اگر یہ متنازعہ بل اتنا ہی ضروری ہے تو پہلے کی طرح تمام مسالک کے علمائے کرام کی ایک مشاورتی کمیٹی بنائے جائے، جس میں صحابی کی تعریف، توہین کا دائرہ کار اور اس کی سزا کا تعین کرکے اپنی سفارشات حکومت تک پہنچائے۔
یہ بھی پڑھیں: بلی تھیلے سے باہرآگئی! عبدالاکبرچترالی کو فتنہ پرور بل کس نے بناکردیا؟دشمنِ اہل بیتؑ اورنگزیب فاروقی نے اقرارکرلیا
اس متنازعہ بل کے قائد ملت جعفریہ پاکستان اور بزرگ علمائے کرام کی رہنمائی میں مسترد ہونے تک قیادت کا بھرپور ساتھ دینگے۔ اس موقع پر انہوں نے قراردادیںمنظور کرائیں کہ ’’یہ اجتماع اس متنازعہ بل کو یکسر مسترد کرتا ہے، اس متنازعہ بل کے حوالے سے ملت تشیع کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ وطن عزیز اس قسم کی متنازعہ، فرقہ وارانہ، متعصبانہ اور اشتعال انگیز قانون سازی کا متحمل نہیں۔ اس متنازعہ بل کی قانون سازی سے پہلے تمام مسالک کے علمائے کرام کی ایک مشاورتی کمیٹی بنائی جائے، جو اپنی سفارشات حکومت کو بھیجے۔ ان تمام قراردادوں کو لبیک یاحسینؑ اور نعرہ حیدری کے فلک شگاف نعروں سے منظور کیا گیا۔ علامہ محمد رمضان توقیر نے پاکستان میں امن و امان اور سیاسی صورتحال کی بہتری کے لیے دعا کرائی۔







