وعدہ صادق 4 کی 33ویں لہر: خیبر شکن میزائل سے تل ابیب سمیت 16 مقامات نشانہ، صہیونی پیٹریاٹ سسٹم ناکام
شیعیت نیوز : اسرائیلی میڈیا نے اتوار کو رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی کلسٹر میزائل جس میں ۱۶ سے زائد ذیلی وارہیڈز تھے، تل ابیب کی فضا میں متعدد حصوں میں تقسیم ہو گیا۔
اس میزائل نے شہر بھر میں ۱۶ مختلف مقامات کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں چھ افراد زخمی ہوئے۔ حملے کے فوراً بعد تل ابیب اور وسطی علاقوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ساتھ ہی القدس، لبنان کی سرحد کے قریب شمالی علاقوں، دوویو اور بارام میں ڈرون دراندازی کے خدشات کے پیش نظر فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے۔
اتوار کے اوائل میں ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) نے وعدہ صادق ۴ آپریشن کی ۲۸ویں لہر کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ اس لہر میں نئے نسل کے میزائل استعمال کیے گئے ہیں جو اسرائیلی شہروں اور خطے میں امریکہ سے منسلک فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
سپاہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے تازہ ترین لہر میں "خیبر” میزائل استعمال کیے ہیں جو بہت بھاری وارہیڈز سے لیس ہیں اور انہیں میزائل نظاموں کی نئی نسل کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حملوں میں بئرالسبع اور تل ابیب کے علاوہ الازرق ایئر بیس سے وابستہ انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو اس جارحیت میں ملوث امریکی طیاروں کے زیر استعمال سب سے بڑا اور اہم ترین جارحانہ اڈہ ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق ۴ کی ۳۱ویں لہر لبیک یا خامنہ ای کے نعرے کے ساتھ شروع ہوئی جو رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کے دور میں پہلا آپریشنل حملہ تھا۔ جس میں امریکی اور صہیونی جارحین کے فوجی اہداف کو بھاری میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
سپاہ پاسداران کے فضائی اہلکاروں نے قدر، خرمشہر اور خیبرشکن میزائلوں کے ذریعے خطے میں ۵ امریکی اہم اڈوں، خاص طور پر امریکی بحریہ کے چوتھے بیڑے اور صہیونی حکومت کے فوجی اڈوں کو تل ابیب اور حیفا میں شدت سے نشانہ بنایا۔
سپاہ پاسداران کی طاقتور اور چوکس بحریہ نے بھی ایک حملہ آور آپریشن میں العدیری کے امریکی ہیلی کاپٹر اڈے کو تباہ کن طیاروں اور کروز میزائلوں سے مسمار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں : افغان سفیر سردار احمد شکیب: مشکل وقت میں افغانستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے، شہید رہبر خامنہای کی تعزیت پیش
سپاہ پاسداران کے فضائی کمانڈنگ نے میدان سے ملت ایران کو خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا: "آپ جیسی عظیم ملت کی حمایت اور ولایت کی پشت پناہی کی وجہ سے، دشمن پر بڑھ کر حملے کر رہے ہیں اور یہ حملوں کا سلسلہ ایک لمحے کے لیے بھی بند نہیں ہوگا۔ ہمیں ولایت فقیہ کے حامی رہنا چاہیے تاکہ دشمن کو پشیمان اور تباہ کر سکیں۔”
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر محمدباقر قالیباف نے ایکس پر اپنے اکاؤنٹ پر لکھا کہ ہم بالکل بھی جنگ بندی کی تلاش میں نہیں ہیں۔ کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ ہم حملہ آور کو ایسا زوردار طمانچہ رسید کر سکتے ہیں جس کے بعد وہ دوبارہ ایران پر حملے کی جرأت نہ کرے۔
سفاک صہیونی نظام اپنی ذلت آمیز زندگی اسی میں دیکھتا ہے کہ وہ جنگ کرے، پھر مذاکرات کا ڈرامہ کرے، پھر وقتی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ۔ اسی طرح ایسی چکر چلاتا رہے تاکہ اپنا تسلط برقرار رکھے۔ لیکن ہم اس کے چکر ختم کر کے رکھیں گے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ عراقی کردستان میں واقع حریر فوجی اڈے پر موجود امریکی فوج کے مرکز کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
سپاہ کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایرانی فوج کے میزائل دستوں نے عراقی کردستان کے حریر بیس میں موجود دہشت گرد امریکی فوج کے مرکز پر پانچ میزائل داغے۔ حملے کی وجہ سے اڈے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
سپاہ پاسداران نے ایک علیحدہ بیان میں بتایا ہے کہ آج صوبہ لرستان کے شہر بروجرد شہر میں ایرانی فضائی دفاعی نظام نے صہیونی حکومت کے ایک حملہ آور ڈرون کو مار گرایا۔
بیان کے مطابق گرایا جانے والا ڈرون ہرمس ۹۰۰ تھا جو اسرائیل کا جدید جاسوسی اور حملہ آور ڈرون طیارہ سمجھا جاتا ہے۔
سپاہ کی فضائیہ فورس کے کمانڈر سردار موسوی نے ایکس (X) پر لکھا کہ اب سے ایک ٹن سے ہلکے وارہیڈ والا کوئی میزائل فائر نہیں کیا جائے گا۔
جنرل موسوی نے مزید کہا کہ میزائل داغے کا دورانیہ زیادہ ہوگا، حملوں کی سطح وسیع تر ہوگی اور اس کا دائرہ بھی مزید پھیلایا جائے گا۔
وعدہ صادق ۴ کی بتیسویں لہر کے میزائل فائر کیے جانے کا لمحہ، جو مبارک نعرہ "لبیک یا خامنہ ای” کے ساتھ مقبوضہ سرزمینوں کے شمالی اور مرکزی علاقوں میں موجود اہداف کی جانب داغے گئے۔
دشمن پر حملہ ایک لمحے کے لیے بھی بند نہیں ہوگا، سپاہ پاسداران
سپاہ پاسداران نے اعلان کیا: آپریشن وعدہ صادق ۴ کی ۳۱ویں لہر لبیک یا خامنہ ای کے نعرے کے ساتھ شروع ہوئی جو رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کے دور میں پہلا آپریشنل حملہ تھا۔ جس میں امریکی اور صہیونی جارحین کے فوجی اہداف کو بھاری میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
سپاہ پاسداران کے فضائی اہلکاروں نے قدر، خرمشہر اور خیبرشکن میزائلوں کے ذریعے خطے میں ۵ امریکی اہم اڈوں، خاص طور پر امریکی بحریہ کے چوتھے بیڑے اور صہیونی حکومت کے فوجی اڈوں کو تل ابیب اور حیفا میں شدت سے نشانہ بنایا۔
سپاہ پاسداران کی طاقتور اور چوکس بحریہ نے بھی ایک حملہ آور آپریشن میں العدیری کے امریکی ہیلی کاپٹر اڈے کو تباہ کن طیاروں اور کروز میزائلوں سے مسمار کر دیا۔
سپاہ پاسداران کے فضائی کمانڈنگ نے میدان سے ملت ایران کو خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا: "آپ جیسی عظیم ملت کی حمایت اور ولایت کی پشت پناہی کی وجہ سے، دشمن پر بڑھ کر حملے کر رہے ہیں اور یہ حملوں کا سلسلہ ایک لمحے کے لیے بھی بند نہیں ہوگا۔ ہمیں ولایت فقیہ کے حامی رہنا چاہیے تاکہ دشمن کو پشیمان اور تباہ کر سکیں۔”







